خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 613
خطبات ناصر جلد چہارم ۶۱۳ خطبہ جمعہ ۲۹ ؍دسمبر ۱۹۷۲ء فضلوں کو شمار نہیں کر سکتے۔بے حد و بے حساب اس کی نعمتیں ہم پر نازل ہو رہی ہیں۔ایک مخلوق ہونے کے لحاظ سے بھی جس میں پتھر بھی شامل ہیں۔ایک جاندار ہونے کے لحاظ سے بھی جن میں بکرا اور اونٹ بھی شامل ہے اور ایک انسان ہونے کی حیثیت میں بھی جس پر پہلے رحیمیت کے جلوے اور پھر مالکیت کے جلوے ظاہر ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اعلان کیا کہ میری نعمتوں کو تم گن نہیں سکتے اور یہ بڑے بڑے حساب دان اور سائنس دان اور سائنس میں بہت آگے نکلے ہوئے ، کمپیوٹر بنانے والے ان کو ہم چیلنج کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو سارے انسانوں پر نہیں کسی ایک انسان پر جو ہوئی ہیں۔ان کو گن کے دکھاؤ گن ہی نہیں سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مسئلہ کو اس طرح نہیں پیش کیا۔آپ نے کہا ساری دنیا قیامت تک رائی کے ایک دانہ کی صفات معلوم کرتی رہے۔اس کی صفات ختم نہیں ہوں گی یعنی رائی کے ایک دانے ، سونف کے ایک دانے ، گندم کے ایک دانے ، چاول کے ایک دانے کے اندر خدا تعالیٰ کے جلووں نے جو صفات پیدا کی ہیں وہ بھی شمار میں نہیں آسکتیں۔ایک وقت میں سائنسدان کہتا ہے جو کچھ تھا ہم نے پالیا۔اگلی نسل میں ایک اور سائنسدان پیدا ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے اس نے غلط کہا تھا اس مخلوق کی اور بہت سی صفات ہم نے دریافت کی ہیں یہ دونوں طرح ہے ایک تو زمانہ ماضی کے جلووں کی تاثیریں دوسرے یہ کہ تازہ بہ تازہ نو بہ نو جلوے اللہ تعالیٰ کی صفات کے ہر چیز پر ظاہر ہورہے ہیں اور ان کی صفات بڑھ رہی ہیں۔بہر حال خدا کا بڑا فضل ہے اور اس کی وجہ سے اِيَّاكَ نَعْبُدُ (یعنی یہ حصہ ) کہ تو نے ہمیں دیا جو ہم نے تیرے حضور پیش کر دیا اپنی بساط کے مطابق الْحَمدُ للهِ۔گھر سے تو کچھ نہ لائے جو ہم نے دیا وہ بھی ہمارا نہیں ہے وہ بھی تیرا ہے اور وہ ہے بے شمار۔ہم محدود ہونے کے لحاظ سے اور کمزور ہونے کے لحاظ سے اس سے کچھ دیتے ہیں لیکن یہ ہمیں احساس ہے کہ الحمدُ للهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ حمد کے ہم مستحق نہیں حمد کا اے ہمارے رب ! تو ہی مستحق ہے اور صرف تو ہی مستحق ہے۔پس دعائیں کرو جو کچھ خدا نے دیا اس پر بس نہ کرو اور تسلی نہ پکڑو۔بلکہ اپنے رب کریم سے کہو کہ اے ہمارے رب! ہمیں اور دے تا کہ تیری نعمتوں کو ہم پہلے سے زیادہ حاصل کر سکیں