خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 596 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 596

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۹۶ خطبه جمعه ۲۲ ؍دسمبر ۱۹۷۲ء اور آج خلیفہ المسیح الثالث تمہیں کہتا ہے کہ اس وقت ہمیں ایک ایسی جلسہ گاہ کی ضرورت ہے جس میں کم از کم دواڑھائی لاکھ آدمی بیٹھ سکیں۔اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو یہ توفیق ہے اور وہ عملاً یہ کام کر سکتے ہیں یعنی یہ محض ایک خواب و خیال والی بات نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی تجویز ہے جو ممکن الحصول ہے اس کی طرف جماعت احمدیہ کو تو جہ دینی چاہیے اور سٹیڈیم کی شکل کی کوئی ایسی جلسہ گاہ بن جانی چاہیے جو ایام جلسہ میں دو اڑھائی لاکھ مردوں اور عورتوں ( دونوں کے لئے جلسہ گاہ اکٹھا کرنا پڑے گا بیچ میں پردے کا انتظام ہو جائے گا) کے لئے بیٹھنے کا انتظام ہو جائے۔یعنی سٹیڈیم کی طرز پر بنی ہوئی سیڑھیاں اور زمین پر کم از کم دو اڑھائی لاکھ نفوس کے بیٹھنے کی گنجائش ہو کیونکہ جلسہ میں شمولیت کرنے والوں کی تعداد جس رفتار سے بڑھ رہی ہے اگر ہم نے آج کی ضرورت کے مطابق کوئی سٹیڈیم بنالیا تو پانچ سال کے بعد وہ بھی چھوٹا ہو جائے گا۔اس واسطے اس سلسلہ میں اگلے دس سال کی ضرورتوں کو مدنظر رکھنا پڑے گا دس سال کے بعد خدا تعالیٰ جماعت کو یہ توفیق دے گا کہ اس وقت کی جماعت اس سے بھی بڑا سٹیڈیم بنالے گی۔لیکن اس وقت میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمیں دو اڑھائی لاکھ آدمیوں کے بیٹھنے کی گنجائش رکھنے والا سٹیڈیم در کار ہے۔اس کے لئے جو خرچ ہے وہ تو مجھے اپنے رب کریم پر امید ہے کہ مل جائے گا لیکن جو کام ہمارے کرنے کے ہیں۔مثلاً اچھے نقشے تیار کرائے جائیں۔ایسے نقشے ہوں جن میں ضرورت کا خیال رکھا جائے اور نمائش کا خیال نہ رکھا جائے۔ایسے نقشے ہوں جن کے مطابق ہم آسانی سے عمارت کھڑی بھی کر سکتے ہوں ایسے نقشے ہوں کہ جن کے مطابق عمارت کو بتدریج ہر سال بڑھایا جا سکے۔یعنی پہلے سال پورا سٹیڈیم مکمل کرنے کی بجائے تدریجا مکمل کرنے کی گنجائش ہو یعنی پہلے سال جو حصہ بن جائے اگلے سال اس میں کچھ اور اضافہ ہو جائے اس سے اگلے سال اور بڑھا دیا جائے۔تاہم یہ کام تو Darfts Man (ڈرافٹسمین ) اور انجینئر ز کی لیاقت پر منحصر ہے۔ان کو سوچنا چاہیے اور جماعتی نظام کو یہ کام کروانا چاہیے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگلے سال خواہ عارضی طور پر جس طرح اس دفعہ جلسہ گاہ میں سیڑھیاں بنائی گئی ہیں اس طرح کا انتظام کر دیا جائے لیکن ایک بڑی جلسہ گاہ کا انتظام ہو جانا چاہیے۔