خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 595
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۹۵ خطبہ جمعہ ۲۲؍دسمبر ۱۹۷۲ء کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھ کر ان کے دل اللہ تعالیٰ کی حمد سے معمور ہو جا ئیں۔اللہ تعالیٰ ان کو دعاؤں کی توفیق عطا فرمادے اور خدا کے فضل سے وہ مقبول دعاؤں کا درجہ پائیں ایسی دعائیں نہ ہوں جو رد کر دی جاتی ہیں۔پس مخلصین ربوہ کو چاہیے کہ وہ ان دنوں بہت دعائیں کریں اور جو لوگ احمدی ہونے کے باوجود ایمان میں کمزور ہیں۔احباب ان کے لئے بھی دعائیں کریں کہ الہی فضلوں، رحمتوں اور برکتوں کی جو بارش حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم روحانی فرزند مہدی معہود علیہ السلام کے ذریعہ آج دنیا میں نازل ہو رہی ہے وہ لوگ اپنی بے سمجھی کے نتیجہ میں ان سے محروم نہ رہیں۔وہ بھی خدا کے لئے اور خدا کی رضا کے حصول کے لئے قربانیاں دینے والے ہوں۔پس دوسری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں اور کہہ رہا ہوں وہ یہی ہے کہ احباب ان ایام میں اپنے دن اور رات کو اپنی دعاؤں سے اس طرح معمور کر دیں کہ بعد میں آنے والوں کے لئے آپ کا یہ زمانہ موجب فخر ہو۔خدا کرے آپ کی دعائیں اللہ کی رحمتوں کو جذب کرنے کا موجب بنیں اور اس کے فضل اور رحمتیں پہلے سے بھی زیادہ جماعت پر اجتماعی رنگ میں اور آپ پر انفرادی لحاظ سے نازل ہوں۔تیسری بات جو میں اس وقت کہنا چاہتا ہوں اور جس کی طرف جلسہ کے انتظامات کی وجہ سے توجہ پیدا ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ اب مرکز میں سٹیڈیم طرز کی جلسہ گاہ تیار ہونی چاہیے۔جب جلسہ سالانہ کے یہ دن گزر جاتے ہیں تو انسان دوسرے کاموں میں مشغول ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ ضروری اور توجہ طلب باتیں نظر انداز ہو جاتی ہیں۔چونکہ ایک وسیع جلسہ گاہ کی تعمیر کی ضرورت بہت اہم ہے اس لئے میں احباب کو اس طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں۔ایک لمبا عرصہ ہوا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ خواہش پیدا کی کہ ایک ایسا بڑا ہال ہو جہاں لیکچروں کا انتظام کیا جا سکے اور جس میں یکصد سامعین سما سکیں۔آپ نے اس زمانے کی ضرورت کے مطابق فرمایا تھا۔پھر ۱۹۴۵ ء میں حضرت مصلح موعود خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے تحریک کی کہ ایک لاکھ سامعین کے بیٹھنے کے لئے انتظام کیا جائے