خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 593
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۹۳ خطبہ جمعہ ۲۲؍دسمبر ۱۹۷۲ء کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا ایک وقت تھا مہدی معہودا کیلے تھے آپ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بشارت دی ہے کہ میں تیرے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا اور لوگ تیری طرف اس کثرت سے رجوع کریں گے کہ راہیں ہموار نہیں رہیں گی۔چنانچہ وہ شخص جو تن تنہا تھا اللہ تعالیٰ نے اس ایک کو ہزار کر دیا۔ہزار نہیں کیا بلکہ اس ایک کو خدا تعالیٰ نے لکھوکھا کر دیا ہے اگر پختہ احمدی اور نیم احمدی ہر دو کو شامل کیا جائے تو اس وقت جماعت کی تعداد کروڑ سے اوپر نکل چکی ہے۔گو اب بھی جماعت بہت تھوڑی ہے اور ہمیں اس کا اعتراف ہے لیکن یہ روز بروز ترقی کرتی چلی جارہی ہے۔دنیا اس حقیقت کو بھول گئی ہے جسے قرآن کریم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔آنا ناتی الْأَرْضَ تَنْقُصُهَا مِنْ أطرافها (الانبیاء : ۴۵) اور نتیجہ یہ نکالا تھا کہ گوا بھی ہلکی رفتار کے ساتھ ترقی ہو رہی ہے مگر تدریجی ترقی ہوتی چلی جاتی ہے پس تمہارے اندر عقل ہو تو سوچو افَهُمُ الْغَلِبُونَ۔کیا اس کے بعد تم غالب آنے کا اور اللہ تعالیٰ کے سلسلہ کو نا کام کرنے کا نتیجہ نکالو گے۔چنانچہ ایک مسلسل ترقی کی راہ ہے۔جس پر جماعت احمدیہ کا کارواں گامزن ہے۔میں نے پہلے بھی اس حقیقت کو بیان کیا تھا کہ کوئی صبح ایسی طلوع نہیں ہوتی جو پہلے دن کی صبح سے جماعت کو زیادہ مضبوط نہیں دیکھتی اور زیادہ تعداد میں نہیں پاتی اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور یہ جلسہ الہی فضلوں کی ایک علامت اس کی رحمتوں کی ایک شہادت اور اس کے پیار کی ایک گواہی ہے۔جو دوست جلسہ سالانہ پر باہر سے تشریف لاتے ہیں وہ بڑی قربانی کر کے آتے ہیں۔اب مثلاً جہاں تک مالی لحاظ سے قربانی کا تعلق ہے ایک دوست جو کراچی سے آئے گا وہ اگر تیسرے درجے میں بھی سفر کر کے آئے تو بھی فی کس سو روپے سے زیادہ خرچ آئے گا۔غریب جماعت ہے۔غریب احباب پر مشتمل جماعت ہے لیکن احباب جماعت ایک جنونی کیفیت کے ساتھ جلسہ کے دنوں میں الہی برکتوں کے حصول کے لئے مرکز کی طرف دوڑتے ہیں۔یہ عشق کی ایک آگ ہے یہ سلسلہ کی محبت کی ایک آگ ہے جو ہر سال اپنا ایک جلوہ دکھاتی ہے اس لئے کہ دعوی کرنے والے نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ میں اس لئے مبعوث ہوا ہوں کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے کو دنیا کے کونے کونے میں گاڑ دوں اور آپ کی محبت تمام بنی نوع انسان کے دل میں قائم