خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 578 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 578

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۷۸ خطبه جمعه ۱۵ دسمبر ۱۹۷۲ء اسلام نے بنیادی چیز ہمیں یہ بتائی ہے کہ کامیابی کے لئے اتحاد ملی اور اُلفت واخوت سب سے اہم چیز ہے اور مسابقت اس دائرہ کے اندر ہوتی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ صف میں فرمایا کہ مومن جن سے اللہ پیار کرتا اور جنہیں اللہ تعالیٰ محبوب رکھتا ہے وہ ہیں جو اسلام کے مخالفین کے مقابلہ میں اور ان کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے بنیان مرصوص کی حیثیت رکھتے ہیں۔یعنی ایک ایسی پختہ دیوار جس کو مضبوط سے مضبوط کرنے کے لئے سیسہ پگھلا کر اس کے اوپر ڈال دیا جاتا ہے۔کوئی درز ، کوئی رخنہ اس دیوار میں باقی نہیں رہتا اور اس مضبوطی کے لئے انسانی کوششیں کافی نہیں اور تدبیر کا تو حکم ہے لیکن انسانی کوشش محض انسانی کوشش اس لئے کافی نہیں ہوتی اس لئے اللہ تعالیٰ نے سورۃ انفال میں فرمایا:۔b هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَبِالْمُؤْمِنِينَ - وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ b جَمِيعًا مَّا الفتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ - (الانفال: ۶۳، ۶۴) کہ وہی اللہ ہے جس نے اے محمد متجھ کو اپنی مدد اور مومنوں کے ذریعہ سے مضبوط کیا اور مضبوط اس طرح کیا کہ مومنوں کے دلوں کو الفت کے بندھنوں میں باندھ دیا اور اگر ساری دنیا کے اموال اس مقصد کے حصول کے لئے خرچ کر دیئے جاتے تب بھی یہ مقصد انتہائی دنیوی کوششوں کے باوجود حاصل نہیں ہوسکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تیری نصرت اور مدد کا یہ سامان کیا کہ مومنوں کے دلوں کو آپس میں الفت کے ساتھ باندھ دیا۔فرمایا وہ یقیناً غالب اور حکمت والا ہے۔ايدك بنصرہ فرمایا یعنی اپنی نصرت کے ساتھ تیری تائید کی اور وہ غالب ہے ایسا کرسکتا ہے کوئی دنیوی طاقت اس کے مقابلے میں نہیں آسکتی لیکن اس تدبیر کی دنیا میں خدا تعالیٰ نے جو حکیم ہے اور جس کے کام حکیمانہ ہیں اپنی نصرت کے لئے ایک راہ یہ کھولی کہ مومنوں کی ایسی تربیت ہوئی اور ان کے اندر ایسی الفت اور اخوت پیدا ہوئی کہ وہ تیرے ممد اور معاون بن گئے اور دنیوی طاقتوں کے مقابلہ میں تیرے پہلو بہ پہلو کھڑے ہو کر تیرے آگے اور پیچھے مقابلہ کر کے انہوں نے مقصدِ حیات انسانی یعنی توحید کے قیام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے قیام کے لئے