خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 577 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 577

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۷۷ خطبہ جمعہ ۱۵ دسمبر ۱۹۷۲ء ہمارا ہر کام ایسا ہونا چاہیے جو محبت الہیہ کو جذب کرنے والا اور الفت واخوت کو مضبوط بنانے والا ہو خطبه جمعه فرموده ۱۵ دسمبر ۱۹۷۲ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے مندرجہ ذیل آیات تلاوت فرمائیں:۔وَ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمُ اَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَاصْبَحْتُمْ بنِعْمَتِهِ اِخْوَانًا (ال عمران : ۱۰۴) وَلِحْلٌ وَجْهَةٌ هُوَ مُوَلِيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ (البقرة : ۱۴۹) پھر فرمایا :۔اسلام نے جہاں باہمی الفت اور اخوت پر بڑا زور دیا ہے وہاں جذ بہ مسابقت پیدا کرنے کی بھی بڑی تاکید کی ہے۔تاہم ان دو باتوں کا آپس میں اکثر تصادم بھی ہو جایا کرتا ہے۔لیکن تصادم اس وقت ہوتا ہے جب اس چیز کو نظر انداز کر دیا جائے جس کے مقدم کرنے پر اسلام بنیادی طور پر زور دیتا ہے جس کے بغیر نہ تو اجتماعی رنگ کے اخروی کام کامیاب ہوتے ہیں اور نہ دنیوی اجتماعی کوششیں کامیابی کا منہ دیکھتی ہیں۔اسی لئے ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ اسلام کی اس تعلیم نے ہر زمانہ میں قریباً ہر ترقی کرنے والی اور کامیاب ہونے والی ذہنیت پر اثر ڈالا ہے۔