خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 566 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 566

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۶۶ خطبه جمعه ۸ /دسمبر ۱۹۷۲ ساری جلسه گاہ مسجد سے باہر لے جائیں جس طرح پہلے خیال تھا لیکن پہلے خیال یہ تھا کہ مسجد کی سیڑھیوں کے ساتھ بڑا تھڑا ہو اندر داخل ہونے کے لیے۔ہمارے انجینئر ز نے خوبصورتی کی خاطر اس دروازہ کی ایسی شکل بنا دی تھی کہ اس کے اوپر ڈیڑھ لاکھ روپیہ خرچ آتا تھا میری طبیعت پر وہ چیز گراں گزری کہ محض انٹرنس کو خوبصورت بنانے کے لئے ڈیڑھ لاکھ روپیہ کیوں خرچ کیا جائے۔اس لئے اس کی بجائے موجودہ طریقہ اختیار کیا اور اب یہ بھی ٹھیک معلوم نہیں ہوتا۔یہ انتظام تو اب بھی تبدیل ہو سکتا ہے کوئی ایسی بات نہیں یا تو ہم اس کو اس دفعہ محن کے بالکل آخر میں لے جائیں پھر اتنی اونچی سٹیج کی ضرورت نہیں۔ایسی صورت میں جلسہ گاہ کے لئے جتنی گنجائش مسجد کے صحن میں ہمیں ملتی تھی اتنی ہی گنجائش صحن سے باہر پیدا کر دیں۔یعنی رقبہ پورا کر دیں تا کہ باہر سے آنے والے ہمارے بھائیوں کو تکلیف نہ ہو۔اس سلسلہ میں اگر کسی دوست کے ذہن میں کوئی تجویز ہو تو وہ کل تک مجھے لکھ کر بجھوا سکتے ہیں۔مکرم سردار بشیر احمد صاحب جن کی نگرانی میں یہ کام ہو رہا ہے وہ اس کے متعلق پورا جائزہ لے کر مجھے فوراً بتا ئیں۔یوں بھی ہر سال سٹیج کو بنانا اور اکھیڑ نا ٹھیک نہیں ہے۔دوسرے ہم اس مسجد کے محراب کے سامنے والے مستقف حصہ کو جلسہ سالانہ کے موقع پر نمازوں کے لئے استعمال کر ہی نہیں سکتے کیونکہ سیج مسجد کے صحن میں ہوتی ہے اگر صفیں یہاں بچھا دی جائیں تو نمازوں کے بعد جلسہ گاہ میں سب سے پہلے آنے والوں کو چکر لگا کر سب سے پیچھے جا کر بیٹھنا پڑے گا۔کیونکہ جس جگہ پر وہ پہلے بیٹھے تھے وہاں تو دوسرے دوستوں نے قبضہ کیا ہو گا۔یہ درست نہیں ہے۔پس اس سٹیج کو بدلنا چاہیے۔اس سال بھی ایسا ہوسکتا ہے۔ابھی تو کام شروع ہی ہوا ہے۔یہ جگہ بدل دینی چاہیے۔اتنی اونچی سطیح کی ضرورت بھی نہیں ہے۔اس سلسلہ میں ایک اور تجویز یہ تھی کہ Landing کے اوپر جو Opening ہے اس سے سٹیج کا کام لیا جائے لیکن اس طرح دوستوں اور مقررین کے درمیان اور خصوصاً میری طبیعت کے لحاظ سے ) میرے اور دوستوں کے درمیان ایک بعد اور دوری پیدا ہو جاتی ہے جو طبیعت پر سخت گراں گزرتی ہے مجبوری ہو تو اور بات ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تو کوئی مجبوری بھی نہیں ہے۔