خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 559
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۵۹ خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۷۲ء کی گود میں دو تین ماہ کا بچہ تھا جب گاڑی سٹیشن پر آئی اور اس کا خاوند دروازے کے پاس سامان وغیرہ اتارنے گیا تو اس نے ربوہ پہنچنے کی خوشی میں اپنے بچے کو خاوند کی طرف یوں پھینکا جیسے اپنے بچے کی محبت کو وہ بھول گئی ہو۔ربوہ کی اینٹوں اور یہاں کی زمین اور پتھروں اور گنجی پہاڑیوں سے تو ہمیں پیار نہیں ربوہ سے ہمیں (یہاں کے بسنے والوں کو اور باہر سے آنے والوں کو ) اس لئے پیار ہے کہ یہ ایک عظیم الہی جماعت کا مرکز ہے جس کے سپر د ایک عظیم کام ہے اور عظیم دونوں لحاظ سے ہے یعنی اپنے کام کے لحاظ سے بھی اور مخالفتوں کے لحاظ سے بھی۔مخالف اسلام کی ہرطرف سے یہ کوشش ہوتی ہے کہ اگر اس کے ہاتھ میں ہمارا کوئی بال آتا ہے تو وہ پکڑے کوئی ہماری چادر کا پلو پکڑ لے کوئی ہمارے پاؤں کا ناخن پکڑ لے غرض وہ کسی نہ کسی طرح ہماری حرکت میں کمزوری پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔چنانچہ چاروں طرف سے ہمارے خلاف عجیب وغریب جھوٹ بولے جاتے ہیں افتر اکئے جاتے ہیں مگر تم ان کی طرف نہ دیکھا کرو آج کل بھی اخبارات تو جومنہ میں آتا ہے لکھ جاتے ہیں۔ہمارے سپر د ایک کام ہے ہماری تو جہ اس طرف ہونی چاہیے اگر تو جہ صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی طرف ہو تو یہ ایک بڑا ز بر دست ذریعہ ہے دکھوں سے محفوظ رہنے کا۔دراصل احساس درد قیام توجہ پر منحصر ہے۔اگر اس طرف توجہ نہیں ہوگی تو درد نہیں ہو گا۔پس اگر کوئی آدمی پوری طرح خدا کی توجہ میں محو ہو جائے تو اس کی آپ لات کاٹ لیں تو اسے درد نہیں ہوگا۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک جنگ میں جس صحابی کا بازو کٹ گیا تھا اور تھوڑا سا رہ گیا تھا اس کے باوجود اس نے لڑائی جاری رکھی تھی۔مگر تمہیں ایک تھوڑا سا کانٹا چبھ جائے تو درد ہوتا ہے اور بعض دفعہ چلانے لگ جاتے ہو۔مگر اس صحابی کی اپنے پیارے رب کی طرف اور اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اتنی توجہ تھی کہ اس کو درد کا کوئی احساس نہیں ہوا بلکہ اس نے کہا یہ باز و کیوں میرے ساتھ لٹکا ہوا ہے ذرا سا گوشت ساتھ رہ گیا تھا۔چنانچہ اس پر ایک پاؤں رکھا اور جھٹکا دے کر اسے الگ کر کے پھینک دیا اگر وہ کسی ڈاکٹر کے پاس جاتا تو وہ کہتا اس پر گہری بے ہوشی طاری کرنے کے بعد اس کا علاج کریں گے۔پس ہماری توجہ اپنے رب کی طرف اور اپنے پیارے محمد صلے اللہ علیہ وسلم کی طرف قائم رہنی چاہیے ہماری راہ کے