خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 556
خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۷۲ء بہر حال اس وقت تو میں ابتدائی طور پر جسمانی قوی کی بحالی اور ان کو کمال تک پہنچانے کا انتظام اور کمال نشو و نما پر قائم رکھنے کے انتظامات کی ایک شق کے متعلق بات کر رہا ہوں جہاں تک پانی کا تعلق ہے اس کی فراہمی کا مسئلہ فوری توجہ چاہتا ہے۔تاہم جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا یہ کام سر دست مشکل ہے لیکن ایک کام آپ کو کرنا چاہیے اور وہ آپ کر سکتے ہیں وہ پانی کو ابال کر استعمال کرنا ہے میں سمجھتا ہوں کہ اگر آپ پانی ابال کر پئیں تو آپ ہمارے ملک کی آدھی بیماریوں سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ربوہ میں پیچش کی بیماری عام ہے پچپش کے ساتھ ملتی جلتی بعض اور بیماریاں ہیں یہ مہلک تو نہیں لیکن کبھی اسہال اور کبھی قبض کی شکل میں بہر حال کمزور کرنے والی بیماری ہے۔پس اس قسم کی بیماریوں جن کا معدہ اور انتڑیوں کے ساتھ تعلق ہے اور پھر بالواسطہ جگر کے ساتھ تعلق ہے جس کا کام ہضم میں مدد کرنا ہے ان پر اس کا اثر پڑتا ہے چنانچہ ابلا ہوا پانی پینے سے انسان ان بیماریوں سے بچ جائے گا۔میرا تو دل کرتا ہے کہ ثواب کی خاطر خود مثلاً الف محلے میں پندرہ بیس دن بلکہ مہینہ تک خدا تعالیٰ مجھے طاقت دے اور کچھ رضا کار میرے ساتھ تعاون کریں تو میں دیگوں میں پانی ابال کر مختلف جگہوں پر رکھ دوں اور یہ ابلا ہوا پانی گھروں میں سپلائی کروں ممکن ہے بعض گھر اس طرح نہ ابال سکیں بہت ساری وجوہات کی وجہ سے جن کی تفصیل میں جانے کی تو اس وقت ضرورت نہیں۔پس اس وقت تو دار العلوم اور الف محلہ کے صدر صاحبان اور ان کی مجلس عاملہ اور تمام اہل محلہ کے مشورہ کے ساتھ زیادہ تفصیلی رپورٹ مع مشورہ جات کہ اس تکلیف کا کس طرح ازالہ کیا جا سکتا ہے اس مشورہ کے ساتھ ربوہ کی مجلس عاملہ کو پیش کریں اور پھر وہ ہمارے پاس بجھوائے مجلس صحت کے کنویز الف محلہ اور دارالعلوم کے محلہ میں ٹیوب ویل لگانے کے متعلق مقامی معلومات بہم پہنچا ئیں باقی رہا کہ کون سا پمپ مناسب رہے گا اس کے متعلق میں خود غور کر لوں گا کہ وہ مجھے صرف یہ بتائیں کہ ان محلوں میں کس جگہ پر پمپ لگ سکتا ہے۔خالی پمپ تو کافی نہیں پمپ نے نیچے سے پانی کو اٹھانا ہے۔پانی جہاں ہو گا وہاں۔اٹھائے گا جہاں نہیں ہوگا وہاں سے نہیں اٹھائے گا اسی طرح الف محلہ میں میں چاہتا ہوں کہ اگر