خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 547
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۴۷ خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۷۲ء ضروری ہے کہ ہر احمدی مرد اور عورت کے خداداد قومی کی پوری طرح نشو ونما ہو خطبه جمعه فرمودہ یکم دسمبر ۱۹۷۲ء بمقام مسجد اقصی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔گذشتہ جمعہ میں میں نے یہ اعلان کیا تھا کہ ہفتہ کے دن شام کو عصر کی نماز کے بعد ر بوہ میں کام کرنے والے پیشہ ور اطباء اور ہومیو پیتھک ڈاکٹر وغیرہ مجھے ملیں۔اندازہ سے زیادہ ان اطباء کی تعداد تھی اور جو کام اس دن ان کے سپرد کیا گیا تھا وہ تو انہوں نے تندہی سے کیا۔میں نے ان سے کہا تھا کہ وہ سارے ربوہ کا جائزہ لیں کہ ربوہ میں کتنے دوست مریض ہیں اور کس قسم کے مرض میں مبتلا ہیں۔چنانچہ اس ابتدائی رپورٹ کیلئے وہ مختلف وفود کی شکل میں کام کرتے رہے ممکن ہے بعض گھر رہ گئے ہوں لیکن انہوں نے حتی المقدور کوشش کی کہ ہر گھر پر پہنچیں اور مطلوبہ معلومات حاصل کریں۔چنانچہ میرے پاس ان کی جور پورٹ آئی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان دنوں ربوہ میں ۱۶۳۲ مریض تھے جن میں سے ۹۰۳ انفلوئنزا کے مریض اور ۱۳۹ ملیریا کے مریض اور ۶۳ پیچش کے اور ۵۲۷ دیگر مختلف امراض میں مبتلا تھے۔تاہم بہت سے انفلوئنزا کے مریض صحت یاب ہو چکے تھے۔الحمد للہ اس رپورٹ سے جو چیز نمایاں طور پر میرے سامنے آئی اور میرے لئے پریشانی کا باعث بنی وہ یہ ہے کہ ان کی رپورٹ کے مطابق بہت سے ایسے مریض