خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 518
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۱۸ خطبہ جمعہ ۱۷ نومبر ۱۹۷۲ء جماعت احمدیہ کے ہوٹل کی عمارت کا پہلے تھوڑا سا حصہ مکمل ہونا تھا لیکن میں نے کہا ہے کہ اسے زیادہ بڑھاؤ۔چنانچہ اس کی تعمیر کا پروگرام تین حصوں میں بٹا ہوا تھا۔دو حصے جلسہ سالانہ تک انشاء اللہ مکمل ہو جائیں گے۔تیسرا حصہ جلسہ تک مکمل نہیں ہوسکتا کیونکہ وقت بہت تھوڑا ہے۔بہر حال کچھ مہمانوں کے لئے اس میں بھی گنجائش نکل آئے گی۔پھر جو عمارت کیمپس کہلاتی ہے جہاں ہمارا ایم۔ایس۔سی فزکس کا حصہ ہے۔اس میں کئی اور کمروں پر چھتیں پڑگئی ہیں جو مہمانوں کے ٹھہر نے کے لئے بڑی حد تک کافی ہیں اور اس سے میری مراد یہ ہے کہ جتنائی۔آئی۔ہائی سکول اور اس کی بورڈنگ کا مستقف حصہ ہے اتنی بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ کمروں کی چھت مکمل ہوگئی ہے۔اس میں بھی کئی کمرے میسر آجائیں گے ویسے اس میں کچھ انتظام کرنا پڑے گا کیونکہ ابھی دیواریں نہیں بنیں صرف چھت ہی پڑی ہے۔بہر حال ہم اس کو استعمال کر سکتے ہیں لیکن ان تمام تعمیراتی وسعتوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر سال مہمانوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے۔اس لئے مہمانوں کے لئے موجودہ عمارتیں کافی نہیں ہوا کرتیں۔پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ باہر سے آنے والے احباب بڑی قربانی کرتے ہیں وہ راتوں کو اس طرح سوتے ہیں کہ دفتروں میں بیٹھ کر حکومت کرنے والے لوگ اس کا اندازہ ہی نہیں لگا سکتے۔ایک دفعہ کا واقعہ ہے میں افسر جلسہ سالا نہ تھا۔میرے پاس ایک رپورٹ آگئی کہ ۱۴ × ۱۸ یا شاید ۱۸ × ۱۵ کا کمرہ ہے جس میں مقیم ایک سومہمانوں کیلئے مالک مکان یا منتظم کھانا لے گیا ہے۔اتنے چھوٹے سے کمرہ میں تو اتنے مہمان نہیں ٹھہر سکتے۔چنانچہ ہم نے رات گئے جب سارے مہمان اپنی اپنی رہائش گاہوں پر اکٹھے ہو جاتے ہیں اس وقت جا کر چیک کیا تو جتنے مہمانوں کا کھانا منگوایا گیا تھا اتنے مہمان وہاں موجود تھے۔انسان سوچے تو وہ اس کا اندازہ نہیں لگا سکتا تاہم اس چھوٹے سے کمرے میں سو کے قریب مہمان موجود تھے۔وہ بیٹھ کر رات گزارتے تھے یا کیسے رات گزارتے تھے یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے۔مگر وہاں سو کے قریب مہمان ٹھہرے ہوئے تھے۔اس سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ ہمارے احمدی دوست مہمان اور میزبان دونوں بڑی قربانی دیتے ہیں۔ویسے یہاں ایک لحاظ سے مہمان اور میزبان کا فرق مٹ جاتا ہے کیونکہ