خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 33
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۳ خطبه جمعه ۴ فروری ۱۹۷۲ء ہے کہ انسان بری چیز کو برا سمجھتا اور اس کے متعلق اس کے دل میں غصہ پیدا ہوتا ہے۔پس غصہ انسانی فطرت کی ایک طاقت ہے اس لئے یہ کم و بیش ہر انسان کے اندر (سوائے ان لوگوں کے جو مفلوج ہوں ) کسی نہ کسی شکل میں پائی جاتی ہے لیکن انسان کو محض نفرت کرنے یا غصہ کرنے کی طاقت ہی نہیں دی گئی بلکہ نفرت اور غصے کے صحیح استعمال کی طاقت بھی دی گئی ہے اور اسی کو ہم اخلاقی طاقت کہتے ہیں۔صحیح استعمال کی یہ طاقت انسان کے علاوہ دوسری مخلوق میں نظر نہیں آتی کیونکہ انہیں اس کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔مثلاً فرشتے ہیں، اُن کو یہ طاقت ہی نہیں دی گئی کیونکہ اُن کا اپنا ایک ایسا دائرہ ہے جس میں اُن کی فطرت خود ہی اپنے ماحول کے مطابق تھوڑی بہت لچک پیدا کر دیتی ہے اور اس سے زیادہ کی انہیں ضرورت نہیں ہوتی یا مثلاً خوف ہے یعنی کسی چیز سے ڈرنا یہ بھی انسانی فطرت کا ایک حصہ اور اس کی ایک طاقت ہے۔اس کے صحیح استعمال کے لئے جو چیز ہمیں دی گئی ہے۔وہ اخلاقی قوت ہے مثلاً جو شخص ڈرتا اور خوف کھاتا ہے اُسے ہم نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔(اس معنی میں جو اسلام نے اخلاقی نفرت بیان کی ہے ) اور دوسرا شخص جب ڈرتا ہے وہ ہمارا محبوب بن جاتا ہے یعنی جو شخص شیطان سے ڈرتا ہے جو شخص دنیوی معبودوں کی پرستش کرنے سے ڈرتا ہے وہ دراصل ایک عقل مند صاحب فراست اور با اخلاق مسلمان ہے جس کی قوتوں کی گویا صحیح نشوونما ہو چکی ہے۔اس لئے وہ شیطان وغیرہ کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اُن سے خوف کھاتا ہے البتہ انسانوں سے نفرت کرنا اسلام نے ہمیں نہیں سکھایا۔اُن کی بداخلاقیوں سے نفرت کرنے کا حکم ہے لیکن اس خوف کو جو اس شخص کے دل میں پیدا ہوا ہم اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور وہی خوف ایک اور شکل میں بھی ظاہر ہوتا ہے یعنی خشیت اللہ کے رنگ میں اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض نہ ہو جائے ہم اللہ تعالیٰ سے اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ہم اُس نعمتوں اور فضلوں سے محروم نہ ہو جا ئیں۔ہم اس بات سے خوف کھاتے ہیں کہ اُس کے پیار سے محروم نہ ہو جا ئیں پس جو شخص اس رنگ میں خوف کا مظاہرہ کرتا ہے وہ ہماری نظر میں بڑا پیارا بن جاتا ہے چنانچہ سب سے زیادہ خشیت اللہ کے مالک ہمارے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔ہمارے اس