خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 32 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 32

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۲ خطبه جمعه ۴ فروری ۱۹۷۲ء اس لئے انسان کو اپنی قوتوں اور طاقتوں کی کامل نشو و نما کے لئے انتھک کوشش اور انتہائی جدوجہد کرنی چاہیے۔جیسا کہ قرآن کریم پر غور کرنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے اصولی طور پر ہمیں چار قسم کی قوتیں اور صلاحیتیں عطا ہوئی ہیں۔(۱)۔جسمانی (۲)۔ذہنی (۳)۔اخلاقی اور (۴)۔روحانی۔اسلام ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہر قسم کی قوت کی نشو ونما کو کمال تک پہنچانے کے لئے انتہائی کوشش کرنی ضروری ہے اور ان چاروں قسموں میں سے کسی قسم کی قوت اور صلاحیت کو نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَق کی رُو سے انسان کی تمام طاقتوں اور قوتوں کی صحیح اور کامل نشو و نما ہونی چاہیے۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم ہے کہ اگر چین سے علم حاصل ہو سکے تو چین جانا ضروری ہے یعنی ذہنی اور علمی قوتوں اور استعدادوں کی کمال نشوونما کے لئے انتہائی سختیاں برداشت کرنی چاہئیں۔پھر اخلاق پر بڑاز ور د یا۔فرمایا کھانا کھاتے وقت اس بات کو مد نظر رکھنا کہ تمہارے کھانے پینے کا کہیں تمہارے اخلاق پر برا اثر نہ پڑے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات کو بڑی وضاحت سے بیان فرمایا ہے کہ اسلام میں جو ممنوعات ہیں وہ اس لئے ہیں کہ اخلاق درست رہیں۔آپ نے فرمایا کہ سور کے گوشت کی ممانعت اس لئے ہے کہ یہ انسانی جسم اور انسانی اخلاق پر اچھا اثر نہیں کرتا اور پھر ممنوعات میں صرف وہ چیز میں ہی نہیں آتیں کہ جن کے نہ کھانے کا حکم ہے بلکہ جس رنگ میں کھانے کا تعلق ہے اس کے بھی بعض پہلوؤں میں ممانعت ہے مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ابھی بھوک کا احساس ہو تو کھانا چھوڑ دو۔ایک مسلمان طیب ہی کھا رہا ہوگا لیکن اس میں بھی اسراف سے منع کیا۔پھر ایسے کھانے سے بھی منع کیا جس کی مقدار ذہن یا اخلاق پر اثر کرنے والی ہو۔اس لئے جو لوگ اُس وقت تک کھاتے رہتے ہیں جب تک بھوک کا احساس قائم رہتا ہے بلکہ اُس کے بعد بھی ، ان کے جسم پر بھی اثر پڑتا ہے، اُن کے اخلاق پر بھی اثر پڑتا ہے۔اخلاقی طاقتیں دراصل وہ فطرتی طاقتیں ہیں جو انسان کے اندر پائی جاتی ہیں۔ان کے صحیح استعمال کو اخلاقی طاقت کہتے ہیں مثلاً ایک فطرتی طاقت یہ بھی