خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 488
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۸۸ خطبہ جمعہ ۳/ نومبر ۱۹۷۲ء برکتوں کے حصول کے سامان پیدا ہو جاتے ہیں۔مثلاً ایک دکان پراچھے سے اچھے کپڑے پڑے ہوئے ہیں وہ تمہیں بہت پسند بھی ہیں لیکن اس دکاندار نے یا کارخانہ والوں نے یا اس حکومت نے جس کے انتظام میں وہ کارخانہ چل رہا ہے، انہوں نے تمہیں وہ کپڑے مہیا نہیں کرنے البتہ کپڑوں کے حصول کا سامان مہیا کر دیا ہے۔کپڑے تیار کر دیئے ہیں جنہیں تم اپنی محنت سے حاصل کر سکتے ہو کوئی کہے گا محنت سے کیسے حاصل ہو سکتے ہیں۔میں کہوں گا محنت سے تم پیسے کماؤ اور ان پیسوں سے تم کپڑے خریدو۔پس جس طرح کسی دکان میں تمہاری پسند کے کپڑوں کا پایا جانا یہ نہیں بتا تا کہ وہ کپڑا تمہیں مل بھی گیا ہے بلکہ کپڑا حاصل کرنے کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے اسی طرح صرف ماہِ رمضان کے روزے رکھ لینا یا آخری جمعہ پڑھ لینا یہ نہیں بتا تا کہ تمہیں رضائے الہی حاصل ہوگئی بلکہ ماہِ رمضان رضائے الہی کے حصول کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔خدا تعالیٰ رمضان میں روحانی دکان سجادیتا ہے اور فرماتا ہے دیکھو! میری یہ برکت ہے اور میری وہ رحمت ہے جو تمہیں روزے کے نتیجے میں ملے گی۔نوافل پڑھنے سے اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہوں گے پھر اس ماہ مبارک میں باجماعت نمازوں میں زیاہ تعہد اور التزام کے ساتھ جانا تلاوت قرآن کریم کرنا عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجنا اپنے بھائیوں کی خبر گیری کرنا، مالی لحاظ سے ان کے کھانے پینے اور پہننے کا انتظام کرنا وغیرہ وغیرہ بیسیوں ثواب کے کام ہیں جن کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضل نازل ہوتے ہیں۔غرض خدا تعالیٰ نے ثواب حاصل کرنے کے لئے روحانی دکان سجا دی۔یہ نہیں فرمایا کہ ثواب تمہیں دے دیا گیا بلکہ فرمایا ماہ رمضان میں وہ دکان سج گئی۔اب تم تلاوت قرآن کریم ، فہم قرآن کریم اور قرآن کریم کے مضمون پر فکر اور تدبر کرنے کے نتیجہ میں اصلاح نفس، تزکیہ نفس اور طہارتِ قلب کے ذریعہ اس دکان سے مال خرید سکتے ہو۔روحانی مال پڑا ہوا ہے۔تم تلاوت قرآن کریم کرو، قرآن کریم پر غور و فکر کرو اس سے علوم سیکھو، محنت کرو اور اپنی محنت سے روحانی چیزیں خرید لو۔اسی واسطے قرآن کریم نے اس مفہوم میں بھی ان چیزوں کو تجارت کہہ کر