خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 486
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۸۶ خطبه جمعه ۳ / نومبر ۱۹۷۲ء اس لحاظ سے بھی کہ ساری دنیا کے فلاسفر اس کے مقابلہ میں کوئی دلیل نہیں لا سکتے جو اس کو توڑ سکے۔پس رمضان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں نے اس مہینے میں مختلف عبادتوں کے ہے۔لئے ایسے حالات پیدا کئے ہیں کہ جن کی بناء پر دعائیں قبول ہوتی ہیں۔اسی طرح جمعہ کے متعلق حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جمعہ ایک ایسا مبارک دن ہے کہ اس میں ایک گھڑی ایسی بھی آتی ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ انسان کی دعا کو قبول کر لیتا ہے اور آپ کا بالکل یہی ارشا در مضان میں قبولیتِ دعا کے متعلق بھی۔پس قبولیت دعا کے لحاظ سے ماہِ رمضان اور یومِ جمعہ ایک دوسرے سے بہت ملتے ہیں۔چنانچہ آج رمضان بھی ہے اور جمعہ کا دن بھی ہے۔اس سے ہمیں ایک سبق بھی ملتا ہے اور وہ یہ کہ یک عظیم چینج جو ہمیں دیا گیا ہے اور ایک عظیم مطالبہ جو ہم سے کیا گیا ہے ہم اسے صرف پورا ہی نہ کریں بلکہ پہلے سے بڑھ کر پورا کریں۔گویا ہر جمعہ زبانِ حال سے یہ کہتا اور چیلنج دیتا ہے کہ مجھ سے بھی بڑھ کر جمعہ (اور اس کی برکات ) لاؤ اور اس کے لئے میں تمہیں چھ دن تیاری کے دیتا ہوں۔پھر مجھ سے آکر ملنا اور اللہ تعالیٰ کے فیوض اور برکات کے حصول کے لئے کوشش کرنا۔قبولیتِ دعا کی ایک گھڑی تمہارے لئے مقدر تھی۔کسی نے اس سے فائدہ اٹھا یا کسی نے نہیں اٹھایا۔اس وقت یہ سوال نہیں مگر اس سے اس حقیقت میں کچھ فرق نہیں پڑتا کہ تمہارے لئے ایک ایسی گھڑی مقدر ہے جس میں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔چنانچہ ہر جمعہ بزبانِ حال یہ کہتا ہے کہ اب میں جارہا ہوں چھ دن کا تمہیں وقت دیتا ہوں۔اس عرصہ میں اور زیادہ مجاہدہ کرو، ایثار دکھاؤ، قربانیاں دو، خدا کے قرب کی مزید راہیں تلاش کرو۔اس کا پیار حاصل کرو۔ساتویں دن میں پھر تمہارے پاس آؤں گا تمہیں چاہیے کہ پہلے سے بڑھ کر اخلاص دکھاؤ۔پس یہ ایک چیلنج ہے اور اس کو سمجھانے کے لئے خصوصاً بچوں کے ذہن نشین کرنے کے لئے میں نے یہ مثال دی ہے درحقیقت یہ ایک مطالبہ ہے جو ہر جمعہ ہم سے کرتا ہے اس اعتبار سے ماہ رمضان کا یہ آخری جمعہ ہم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک پاک اور صاف ہو جائے اور ایسا ہونا بھی چاہیے کیونکہ برکتوں اور رحمتوں سے معمور یہ ماہ مبارک آیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں