خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 480 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 480

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۸۰ خطبه جمعه ۱۷۲۰ کتوبر ۱۹۷۲ء جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں لفظ عبد قابل ذکر ہے چنانچہ انسان کی پچھلی تاریخ پر جب ہم غور کرتے ہیں تو تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے بہت قریب ہے اور وہی تاریخ روحانی طور پر بھی اللہ تعالیٰ کے فرمان اور انسانی فطرت کے مطابق بھی اور پھر عقلاً بھی یہ بتاتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنا عبد بننے کے لئے پیدا کیا ہے اور اس کے لئے دُعا کی ضرورت ہے۔پس دوستوں سے میں یہ کہتا ہوں کہ تم دعاؤں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرو اور جس قرب کے نظارے زبانِ حال کی دعاؤں کے ذریعہ انسان نے مشاہدہ کئے اور محسوس کئے اس قرب الہی کے نظارے عقل کی اور بینائی کی اور فراست کی اور روحانیت کی آنکھ سے دیکھنے اور مشاہدہ کرنے کی کوشش کرو۔اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے وہ تمہیں آسمانی برکتوں سے نوازے گا۔تاہم اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ مشروط ہے۔اس نے یہ شرط لگائی ہے کہ کوشش کر وہ عمل صالح بجالا و مجاہدہ کرو، میری قرب کی راہوں کو حاصل کرنے کے لئے انتہائی زور لگاؤ تو پھر آسمانی برکتیں ملیں گی۔خدا کرے کہ تمہیں اس کی تو فیق عطا ہو۔ہمارا یہ مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ جب یہ دونوں چیزیں یعنی تدبیر اور دُعا اکٹھی ہو جاتی ہیں تو آسمان اپنے فیض کے سارے دروازے کھول دیتا ہے اور فضلوں کی موسلا دھار بارش شروع ہو جاتی ہے۔مبارک ہے وہ شخص جو آسمانی فیض اور فضل باری کا مورد بنتا ہے۔یہ رمضان کا بابرکت مہینہ ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا۔یہ مہینہ اور بھی کئی لحاظ سے بڑی برکتوں والا مہینہ ہے۔اس میں الہی برکتوں کے حصول کے سامان پیدا کئے گئے ہیں اس لئے ہم سب کا یہ فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد بننے کے لئے اور تقرب الہی کے حصول کے لئے اس ماہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ کوشش کریں خدا کرے کہ آپ بھی اور یہ خاکسار بھی اللہ تعالیٰ کا زیادہ سے زیادہ پیار حاصل کرنے کی توفیق پائے۔آمین روزنامه الفضل ربوه ۲۳ رستمبر ۱۹۷۳ء صفحه ۲ تا ۷ )