خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 472
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۷۲ خطبه جمعه ۱۷۲۰ کتوبر ۱۹۷۲ء فرمایا میں نے انسان کو عبد بننے کے لئے پیدا کیا ہے اس لئے جو شخص حقیقتاً میر ا عبد بننا چاہتا ہے اور میری صفات کا مظہر بننے کی خواہش رکھتا ہے اور اس کے لئے مجاہدہ کرنے کیلئے بھی تیار ہے تو اسے یہ حقیقت یا درکھنی چاہیے کہ میں اس کے بہت قریب ہوں۔چنانچہ جب ہم عبد کی حقیقت یا عبد بننے کی حالت یا عبد بنے کی اہلیت کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک مادی وجود دیا اور اس کو بروئے کار لانے کیلئے مختلف قومی عطا فرمائے۔ماڈی قومی اور ان کی پرورش کے لئے بہت کچھ چاہیے تھا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے ماڈی قومی اور بالواسطہ روحانی قومی کی پرورش کے لئے اس کا ئنات کو بنایا۔اب کامل قومی (مادی لحاظ سے ) عطا کرنا ، پھر اُن کی ساری حکمتوں کو اور سارے پہلوؤں کو ذہن میں رکھ کر اُن کے لئے ضرورت کی ہر چیز کو پیدا کرنا یہ اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے اور کوئی نہیں کر سکتا۔(ویسے تمثیلاً ہم اپنی زبان میں یہی کہہ سکتے ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ کی صفات تو بڑی مختلف ہیں۔ہمیں سمجھانے کے لئے ایسے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں ) پس بار یک در بار یک طاقتوں اور ان کی نشوونما کے لئے جس چیز کی ضرورت تھی اس کو پیدا کرنے کے لئے انتہائی قرب کی ضرورت تھی کیونکہ جو شخص دور ہوتا ہے وہ کسی کی ضرورتوں کو پہچانتا اور سمجھتا ہی نہیں اس لئے وہ مادی قومی کی نشوونما کے لئے کچھ پیدا ہی نہیں کر سکتا یا اگر پیدا کر سکتا ہے تو وہ ادھوری چیزیں ہوتی ہیں۔جس طرح مثلاً انسان انسان کی نشو و نما کے لئے جس حد تک اس کی ذمہ داری ہے اس کے متعلق بھی ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ نقص پیدا ہو جاتا ہے یا بھول چوک ہو جاتی ہے۔ماں اپنی مامتا کے باوجود اور باپ اپنے پیار کے باوجود تربیت اولاد میں غلطیاں کر جاتا ہے خواہ اولاد کی جسمانی تربیت ہو یا اخلاقی اور روحانی تربیت ہو مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے لوگو! تمہارے عبد بننے کے لئے جن طاقتوں اور جن صلاحیتوں کی ضرورت تھی وہ ساری کی ساری تمہیں دے دی گئی ہیں۔نہ صرف یہ بلکہ اُن کی کامل نشو ونما کے لئے جس قسم کے مادی ذرائع کی ضرورت تھی ، وہ بھی پیدا کر دیئے گئے ہیں۔پس ان طاقتوں اور صلاحیتوں کے علاوہ ان کی نشو ونما کے لئے مادی ذرائع کا پیدا کر دینا بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے بہت ہی قریب ہے۔