خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 471 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 471

خطبات ناصر جلد چہارم تم کو ہدایت دی ہے اور تا کہ تم (اس کے ) شکر گزار بنو۔خطبه جمعه ۲۰ اکتوبر ۱۹۷۲ء اور (اے رسول!) جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق پوچھیں تو ( تو جواب دے کہ ) میں (اُن کے ) پاس (ہی ) ہوں۔جب دعا کرنے والا مجھے پکارے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔سو چاہیے کہ وہ ( دعا کرنے والے بھی ) میرے حکم کو قبول کریں اور مجھ پر ایمان لا ئیں تا وہ ہدایت پائیں۔تمہیں روزہ رکھنے کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانے کی اجازت ہے۔وہ تمہارے لئے ایک ( قسم کا لباس ہیں اور تم اُن کے لئے ایک ( قسم کا ) لباس ہوا اللہ کو معلوم ہے کہ تم اپنے نفسوں کی حق تلفی کرتے تھے۔اس لئے اُس نے تم پر فضل سے توجہ کی اور تمہاری (اس حالت کی اصلاح کر دی۔سواب تم ( بلا تامل ) اُن کے پاس جاؤ اور جو کچھ اللہ نے تمہارے لئے مقدر کیا ہے اس کی جستجو بھی کرو اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہیں صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے اس کے بعد ( صبح سے رات تک روزوں کی تعمیل کرو اور جب تم مساجد میں معتکف ہو تو اُن کے (یعنی بیویوں کے پاس نہ جاؤ۔یہ اللہ کی ( مقرر کردہ ) حدیں ہیں اس لئے تم اُن کے قریب ( بھی ) مت جاؤ۔اللہ اسی طرح لوگوں کے لئے اپنے احکامات بیان کرتا ہے تا کہ وہ ( ہلاکتوں سے ) بچیں۔اس کے بعد فرمایا:۔اس رکوع میں جو رمضان کے متعلق قرآن کریم میں بیان ہوا ہے ایک آیت یہ ہے۔b وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أَجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ۔(البقرة : ۱۸۷) اللہ تعالیٰ نے اس آیہ کریمہ میں انسان یا بشر کو مخاطب نہیں کیا بلکہ عباد“ کو مخاطب کیا ہے اور یہ سارا مضمون اللہ کے ”عبد“ سے تعلق رکھتا ہے اس عبد سے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورة الذاریات کی اس آیت میں بھی کیا ہے۔وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الدريت : ۵۷)