خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 470
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۷۰ خطبه جمعه ۱۷۲۰ کتوبر ۱۹۷۲ء عَنْكُمْ فَالْنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللهُ لَكُمْ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمْ ص الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِقُوا القِيَامَ إِلَى الَّيْلِ ۚ وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَ اَنْتُمْ عَكِفُونَ فِي الْمَسْجِدِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا كَذلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ التِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ۔(البقرة : ۱۸۴ تا ۱۸۸) ترجمہ:۔اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر ( بھی ) روزوں کا رکھنا (اسی طرح) فرض کیا گیا ہے جس طرح اُن لوگوں پر فرض کیا گیا تھا جو تم سے پہلے گذر چکے ہیں تا کہ تم (روحانی ترقیات کے لئے اللہ تعالیٰ کا فیض حاصل کرو اور اسی طرح اخلاقی ترقیات کے لئے اس کی برکت سے ) اپنے اندر ایک طاقت پیدا کر و ( سو تم روزے رکھو) چند گنتی کے دن اور تم میں سے جو شخص مریض ہو یا سفر میں ہو تو (اُسے ) اور دنوں میں تعداد ( پوری کرنی ) ہوگی اور اُن لوگوں پر جو اس ( یعنی روزہ) کی طاقت نہ رکھتے ہوں (بطور فدیہ ) ایک مسکین کا کھانا دینا (بشرط استطاعت ) واجب ہے (اس کے ایک معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ اُن لوگوں پر جو فدیہ کی طاقت رکھتے ہوں فدیہ دینا واجب ہے ) اور جو شخص پوری فرمانبرداری سے کوئی نیک کام کرے گا تو یہ اُس کے لئے بہتر ہوگا اور اگر تم علم رکھتے ہو تو ( سمجھ سکتے ہو کہ) تمہارا روزے رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے۔رمضان کا مہینہ وہ (مہینہ) ہے جس میں ( قرآن کریم ) بار بار نازل کیا گیا ہے۔(وہ قرآن ) جو تمام انسانوں کے لئے ہدایت ( بنا کر بھیجا گیا ) ہے ( یعنی پہلا الہام الہی جس کے مخاطب تمام بنی نوع انسان ہیں ) اور جو کھلے دلائل اپنے اندر رکھتا ہے (ایسے دلائل ) جو ہدایت پیدا کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ( قرآن میں ) البی نشان بھی ہیں اس لئے تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو ( اس حال میں دیکھے (کہ نہ مریض ہو نہ مسافر ) اُسے چاہیے کہ وہ اس کے روزے رکھے اور جو شخص مریض ہو یا سفر میں ہو تو اس پر اور دنوں میں تعداد ( پوری کرنی واجب ) ہوگی اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا۔(اس لئے تم خود اپنے نفسوں کے لئے تنگی نہ چاہو بلکہ اللہ کی دی ہوئی آسانی سے فائدہ اُٹھاؤ ) اور ( یہ حکم اُس نے اس لئے دیا ہے کہ تم تنگی میں نہ پڑو اور ) تا کہ تم تعداد کو پورا کر لو اور اس ( بات ) پر اللہ کی بڑائی کرو کہ اس نے