خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 24 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 24

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۴ خطبہ جمعہ ۲۸ ؍ جنوری ۱۹۷۲ء راضی نہیں ہوتا اور نہ وہ اس کا مطالبہ کرتا ہے اور جو طاقت سے باہر ہے وہ اس کا بھی مطالبہ نہیں کرتا۔وہ اپنے کسی بندے پر اس وجہ سے بھی خوش نہیں ہو گا کہ اس نے اپنے بھائیوں سے طاقت سے زیادہ مطالبہ کیا لیکن طاقت اور اس دائرہ کے اندر ذمہ داریوں کا جو زیادہ سے زیادہ بوجھ ڈالا جاسکتا ہے، وہ ڈالتا ہے چونکہ قوت و طاقت کی نشو ونما ہوتی رہتی ہے اس لئے افراد کے بوجھ اور ان کی ذمہ داریاں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ تیری وحی سے منہ پھیر لیتے ہیں وہ بھی دو قسم کے ہیں۔ایک تو مقر اور ایک وہ جو ایمان کا دعویٰ کرنے کے باوجود اپنی ذمہ داریوں کو جان بوجھ کر یا غفلت کے نتیجے میں نباہنے کی کوشش نہیں کرتے اور ان کا حال یہ ہے وَ اعْطَى قَلِيلًا و اندی کہ تھوڑا سا دیتے اور بقیہ کے متعلق بخل کرنے لگتے ہیں۔لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا میں جو بات بتائی گئی تھی وہ یہاں کھول کر بتادی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تھوڑا دینے پر راضی نہیں بلکہ وہ طاقت کے مطابق پورا دینے پر راضی اور خوش ہوتا اور اس کی جزا دیتا ہے۔باقی اس کی رحمت وسیع ہے وہ اپنے بندوں سے بعد میں جزا سزا کے وقت جو چاہے سلوک کرے ( بعد میں سے یہ مراد ہے کہ اس زندگی کے بعد اُخروی جزا کا وقت یا اسی زندگی میں جزا کا وقت یعنی ایک محدود کوشش کا نتیجہ نکلنے کا وقت ) وہ مالک ہے جو مرضی ہو کرے اس کے متعلق ہم بات نہیں کیا کرتے لیکن جو خدا نے ہمیں کہا اور تعلیم دی ہے، ہم سے جو چاہتا اور خواہش رکھتا ہے اور جس بات پر وہ کہتا ہے کہ میں راضی ہوتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ جتنا دے سکتے ہو ا تنا دے دو تو میں راضی ہوں گا ورنہ نہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہ بوجھ ڈالا ہے اور اس کو پسند نہیں کرتا کہ انسان اپنی قوت اور طاقت کے مطابق کام نہ کرے بلکہ اس سے کم کرے۔لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کی لغوی بحث میں امام راغب نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے کہ انسان کی طاقت سے جو زائد ہے، وہ اس کا مکلف نہیں لیکن اس دائرے کے اندر مکلف ہے۔سورہ نجم میں یہی چیز کھول کر بیان کر دی گئی ہے کہ تھوڑا دینا اور بقیہ کے متعلق بخل کرنا۔اگر تمہاری قوتِ استعداد تو اکائی ہو اور تم خدا کی راہ میں خدا کے بتائے ہوئے طریق اور