خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 416
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۱۶ خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۷۲ء کی محبت کا پیغام لے کر آئے ہیں لیکن ان پادریوں کی صفوں کے پیچھے ان کی جو فوجیں داخل ہوئیں اُن کی توپوں سے پھول نہیں جھڑتے تھے بلکہ گولے بر سے تھے اور اُنہوں نے جو تمہارا حال کیا وہ تم مجھ سے زیادہ جانتے ہو مجھے اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔لیکن ہم ( جماعت احمدیہ کے مبلغین بعض ملکوں میں ) پچاس سال سے کام کر رہے اور تم جانتے ہو۔تم بھی گواہ ہو اور تمہاری حکومتیں بھی گواہ ہیں۔ہم تمہاری ایکسپلانٹیشن کے لئے نہیں آئے ہم تمہیں لوٹنے کے لئے نہیں آئے۔ہم تمہاری خدمت کرنے کے لئے آئے ہیں ہم ایک پیسہ تمہارے ملکوں میں باہر لے کر نہیں گئے اور لاکھوں روپے باہر سے لا کر تمہارے ملکوں میں خرچ کر دیئے ہیں۔چنانچہ اس بے لوث خدمت کا ان کے عوام کو بھی پتہ ہے اور ان کی حکومت کو بھی علم ہے۔اس واسطے ہمارے ساتھ ان کا سلوک برادرانہ ہے حالانکہ وہاں اکثر ملکوں میں کئی انقلاب آئے یکے بعد دیگرے حکومتیں بدلتی رہیں۔کبھی فوجی حکومت آئی۔کبھی سول حکومت آئی لیکن ہر حکومت ہمارے ساتھ بڑی عزت و احترام سے پیش آتی رہی۔تاہم جہاں کہیں بھی تعصب برتا جاتا ہے اس کی ذمہ دار عیسائیت ہے کیونکہ عیسائیت کے ساتھ ہماری روحانی جنگ ہورہی ہے اور یہ انشاء اللہ جاری رہے گی ہم اس کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔اس لئے جہاں کہیں عیسائی پادریوں کا داؤ لگتا ہے وہ ہماری مخالفت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔غرض میں بتا رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے فرماتا ہے کہ کسی اور کی خشیت تمہارے دل میں پیدا نہیں ہونی چاہیے۔تمہارے دل میں خشیت صرف اللہ تعالیٰ کی پیدا ہو۔دیکھو! تم اسلامی تعلیم اور اسلامی ہدایت کے نتیجہ میں تھوڑی یا بہت معرفت حاصل کر چکے ہو کہ اللہ تعالیٰ پیدا کرنے والا اور رب رحمان ہے اگر تم اپنی عقل سے کام لو تو تم اس نتیجہ پر پہنچو گے کہ دُنیا میں اور کوئی ہستی نہیں۔یہ صرف اللہ تعالیٰ ہے جس کی عظمت اور جلال کا تقاضا ہے کہ انسان کا دل اس کے خوف سے لرزاں وتر ساں رہے۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اللہ تعالیٰ کی ایسی بے شمار نعمتیں ہیں جو ہمارے عمل کے وقت سے