خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 415
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۱۵ خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۷۲ء اندر عدل وانصاف قائم کرنے۔ان کے تعلیم کے نظام کو بہتر بنانے اور یہ کرنے اور وہ کرنے کے لئے آئے ہیں۔وہ اُٹھتے بیٹھے لوگوں سے یہ کہتے تھے کہ ہم بیچارے تو تمہاری خدمت کے لئے تمہارے ملکوں میں پہنچے ہیں اور تم خواہ مخواہ ہم سے ناراض ہوتے ہو۔ہم تو تمہارے خادم ہیں۔گذشتہ سے پیوستہ سال جب میں افریقہ گیا تو نائیجیریا کے سر براہ یعقو بو گوون سے میری ملاقات تھی۔اس سے پہلے میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ میں نے ایک دو دن میں جو جائزہ لیا ہے اور مشاہدہ کیا ہے میرا یہ تاثر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہر نعمت عطا فرمائی تھی مگر تم ہر نعمت سے محروم کر دیئے گئے ہو۔وہ سمجھتے تھے کہ میرا عیسائی مشنوں کی طرف اشارہ ہے۔چنانچہ اگلے روز جب یعقو بو گوون سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے اس سے کہا میرا یہ تاثر ہے جس کا میں نے اپنے دوستوں سے اظہار بھی کیا ہے کہ You had all but you were deprived of all۔اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہر چیز عطا فرمائی تھی مگر تم ہر چیز سے محروم کر دیئے گئے ہو۔میں نے جب یہ فقرہ کہا تو اس نے بے ساختہ کہا are!!! How true You are! How true You are!! How true You پس کہنے کو تو بغیر کسی عمل کے نائیجیر یا پر احسان دھرنے گئے تھے نائیجیر یانے انگریز پر کوئی احسان تو نہیں کیا تھا کہ وہ وہاں پہنچا تھا بقول خود ان کی خدمت کرنے کے لئے ان کا یہ عمل رحمان کی صفت سے ملتا جلتا ہے کیونکہ صفت رحمن کا مطلب یہ ہے کہ کسی عامل کے عمل کے بغیر اللہ تعالیٰ فضل کرتا ہے۔مثلاً اس نے ہماری پیدائش سے بھی پہلے ہمارے لئے ہزار ہا چیزیں پیدا کر دیں۔انگریزوں کا اہل افریقہ سے سلوک گو بظاہر اس سے ملتا جلتا ہے۔لیکن حقیقتا اس کے برعکس ہے انگریز ان کو ایکسپلائٹ کرنے کے لئے گئے تھے۔میں اپنی تقریروں میں اپنے افریقن دوستوں سے کہتا تھا کہ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ جب پادریوں کی فوج تمہارے ملک میں داخل ہوئی تو اعلان اُنہوں نے یہی کیا تھا کہ وہ ” خداوند یسوع مسیح “