خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 23
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۳ خطبه جمعه ۲۸ جنوری ۱۹۷۲ء اللہ تعالیٰ کے انتہائی انعامات کا وارث بننے کیلئے جماعت اپنی قربانی کو انتہا تک پہنچا دے فرمائی:۔خطبه جمعه فرموده ۲۸ / جنوری ۱۹۷۲ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا - (البقرة : ۲۸۷) أَفَرَعَيْتَ الَّذِي تَوَلَّى - وَ اَعْطَى قَلِيلا و اندی - (النجم : ۳۵،۳۴) اللَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى - وَ اَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى - وَ أَنَّ سَعْيَه سَوْفَ يُرى - ثُمَّ يُجْزَهُ الْجَزَاء الْأَوْقَى - وَأَنَّ إلى رَبَّكَ الْمُنْتَهى - (النجم : ۳۹ تا ۴۳) اس کے بعد فرمایا:۔لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا میں ہر دو پہلو بیان ہوئے ہیں۔ایک یہ کہ اللہ کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔یہاں طاقت سے مراد دائرۂ استعداد ہی ہے جس پر میں متعدد بار روشنی ڈال چکا ہوں۔پس کسی کا جتنا دائرہ استعداد یا دائرہ صلاحیت یا دائرہ قوت و طاقت ہو، اس سے زیادہ بوجھ فرد، گروہ یا نوع پر نہیں ڈالا گیا۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ دائرہ استعداد میں جتنی بھی طاقت تھی ، اس پر پورا سو فیصد بوجھ ڈال دیا گیا اور انسان کو اس کا مکلف بنادیا گیا۔اللہ اس سے کم پر