خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 400
خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۷۲ء اصطلاح ہے لیکن دُنیا کے سارے علوم اور دُنیا کے سارے مذاہب اس بات پر متفق ہیں کہ کسی لفظ کے یا کسی جملے کے اصطلاحی معنے لغوی معنے کو محدود کرتے ہیں اس میں وسعت پیدا نہیں کرتے۔اس لئے یہ نہیں ہو سکتا کہ لغت کوئی اور معنے کر رہی ہو اور اصطلاحی معنے کچھ اور ہوں۔مثلاً گھوڑا ہے۔اس کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔عربی میں گھوڑے کے کئی سو نام ہیں۔اب ایک خاص قسم کا گھوڑا ہے ( جس کا ایک خاص نام ہے ) تو اس کے متعلق اگر کوئی کہہ دے کہ یہ گھوڑ انہیں اس کے معنے گدھے کے ہیں تو ایسا نہیں ہوسکتا۔گھوڑا ، گھوڑا ہی رہے گا گدھا نہیں بن جائے گا۔اسی لئے ساری دُنیا کے عالم اور مذہبی لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ اصطلاحی معنے لغوی معنوں کو محدود کرتے ہیں ان میں وسعت پیدا نہیں کرتے۔اس لحاظ سے ابن آدم کے معنے ابن آدم ہی کے ہوتے ہیں یعنی اس کا مفہوم کچھ محدود ہو جائے گا۔ابن آدم سے بڑھ کر کچھ نہیں بنے گا۔جب اُس نے یہ کہا تو چونکہ اس کے ساتھ کج بحثی نہیں کرنا چاہتا تھا نہ یہ میرا مقام ہے۔میں نے بڑے وثوق سے اُن کے لیڈر کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اس کا جواب میں نہیں دوں گا۔یہ دیں گے کوئی کہہ سکتا تھا کہ میں نے ایسا کر کے خطرہ مول لیا تھا لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔وہ دل میں جوخواہش پیدا کرتا ہے اس کو پورا بھی کرتا ہے۔چنانچہ اُن کا لیڈر اس پادری سے کہنے لگا۔تم غلط کہتے ہو یہ ٹھیک کہتے ہیں۔پس عیسائیوں کو بھی حضرت مسیح کا ابن آدم ہونا تو ماننا پڑ گیا۔میں اس وقت بتا یہ رہا ہوں کہ ادیان باطلہ کے ساتھ ہماری دلائل کی جو جنگ تھی اُسے ہم نے قریباً قریباً جیت لیا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہم نے یہ جنگ پوری جیت لی ہے۔ہم نے یہ جنگ دلائل کے میدان میں جیت لی ہے۔بعض لوگ ہیں فیصد احمدی ہو چکے ہیں۔بعض پچاس فیصد احمدی ہو چکے ہیں بعض ساٹھ فیصد احمدی ہو چکے ہیں۔غرض غلبۂ اسلام کی راہ میں روک بننے والی دو بنیادی طاقتیں تھیں۔ایک ادیان باطلہ کی مجموعی طاقت۔چنانچہ جب اسلام کا سوال پیدا ہو تو یہودی اور عیسائی ایک بن جاتے ہیں۔جب اسلام کا سوال نہ ہو تو عیسائی یہودیوں سے کہتا ہے تم نے خداوند یسوع کو صلیب پر لٹکا دیا تھا۔تم