خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 390
خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۷۲ء لئے ہر قسم کی قربانی دیتے رہے۔اس وقت دنیوی لحاظ سے یا د نیوی سامانوں کے لحاظ سے بظاہر یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ یہ لوگ بچ جائیں گے۔وہ اپنی اس جدوجہد میں اور اسلام کو غالب اور مستحکم کرنے کے لئے اپنی ان تھک کوشش میں کامیاب ہو جائیں گے۔مگر ان کے دلوں میں چونکہ پختہ یقین تھا کہ اِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ اللہ تعالیٰ نے جو یہ وعدہ کیا ہے کہ اسلام ساری دُنیا پر غالب آئے گا۔یہ سچا وعدہ ہے حالانکہ ظاہر میں نہ کوئی عقلی دلیل اور نہ کوئی ظاہری سامان اس وعدہ کو سچا کرنے کے لئے موجود تھے لیکن چونکہ مسلمانوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت پر یقین تھا۔آپ کے ذریعے انہیں جو وعدے ملے تھے ان پر ان کا یقین تھا اس لئے وہ اپنے دشمنوں سے محفوظ رہے اور اپنی کوششوں میں کامیاب ہو گئے۔پھر تیسرا دور شروع ہوا۔اس میں بھی چند سو مسلمان تھے۔میں نے بتایا ہے بدر کے میدان میں ۳۱۳ کے قریب صحابہ شامل تھے۔ان چند سو مسلمانوں کو مٹانے کے لئے رؤسائے مکہ پوری شان کے ساتھ آئے وہ اپنے تمام دوستوں اور لواحقین کے ساتھ ، اپنے نوکروں اور غلاموں کے ساتھ اور اونٹنیوں اور سیوف ہندی ( جو اس زمانے میں بڑی مشہور تھیں ) کے ساتھ آئے تھے۔اُن کا ارادہ بھی تھا، ان کی خواہش بھی تھی اور اُن کو یقین بھی تھا کہ بدر کے میدان میں اسلام اور بت پرستوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا اُس وقت کفار مکہ جو تھے وہ تو تھے ہی مگر یہ ۳۱۳ آدمی کس برتے پر ، کسی سہارے پر بدر کے میدان میں لڑنے چلے گئے تھے۔وہ اس یقین کے ساتھ لڑنے گئے تھے کہ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا فا صبر یہ حکم تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ہے۔مگر اس قسم کا حکم بعض تفسیری معنوں کے لحاظ سے صرف آپ کے اوپر چسپاں ہوتا ہے اور بعض تفسیری معنوں کے لحاظ سے آپ کی اُمت پر انفرادی اور اجتماعی ہر دو لحاظ سے چسپاں ہوتا ہے۔اس اعتبار سے فاصبر کے معنے ہوں گے مسلمانو! ایمان کی راہ پر بشاشت کے ساتھ قربانیاں دیتے چلے جاؤ۔إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ تم مخالف دُنیا کی طاقت کی طرف نہ دیکھو خدا تعالیٰ نے تمہاری مدد کا وعدہ