خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 380
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۸۰ خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۲ء میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فیض کے نتیجہ میں خدا کے پیارے اور محبوب بندے پائے جاتے تھے۔اب تو بہت زیادہ ہونے چاہئیں کیونکہ ضرورتیں بڑھ گئیں مسائل اور بھی زیادہ الجھ گئے ہیں ( یہ مضمون تو بہت لمبا ہے اب میں یہیں اس کو ختم کروں گا لیکن اس خطبہ میں اس کا جوڑ ملا دیتا ہوں ) حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے دنیا میں ایک عظیم انقلاب بپا ہوا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب میں کئی جگہ اس کی بڑی وضاحت فرمائی ہے۔اس عظیم انقلاب کا مطلب ایک ایسا انقلاب ہے جس سے بڑا کوئی اور انقلاب تصور میں نہیں آسکتا جس کا مطلب ہے کہ سرمایہ داری کے انقلاب یا اشتراکیت کے انقلاب یا چینی سوشلزم کے انقلاب کی اس انقلاب کے مقابلے میں جو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا کیا کوئی حیثیت ہی نہیں۔چنانچہ اسلام کو غالب کرنے کے لئے اللہ کی مصلحت نے یہ تقاضا کیا کہ اسلامی انقلاب سے پہلے یکے بعد دیگرے تین انقلاب رونما ہوں اور اس طرح اسلامی انقلاب کے رونما ہونے کے لئے زمین تیار ہو جائے۔جن لوگوں نے یہ مضمون پڑھا ہے وہ تو اس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔لیکن بعض لوگ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ روسی اشتراکیت اور چینی سوشلزم کے پیرو سرمایہ داری کے نظام کو Reactionary ( ری ایکشنری ) نظام کہتے ہیں Revolutionary ( ریولوشنر ی ) نظام نہیں کہتے۔میرے نزدیک وہ غلطی خوردہ ہیں۔سرمایہ داری کا نظام اپنے وقت میں پہلا انقلاب تھا۔یہ واقع میں انقلاب ہے کسی چیز کا ردعمل نہیں ہے اگر سرمایہ داری کا انقلاب بپا نہ ہوتا تو اشتراکیت کا انقلاب پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔اس طرح ایک کے بعد دوسرا انقلاب آیا۔پہلے سرمایہ داری کا انقلاب آیا ( یہ ایک لمبا مضمون ہے اللہ تعالیٰ نے زندگی اور توفیق دی تو کسی وقت مثالیں دے کر یہ سارا مضمون بیان کروں گا ) پھر روسی اشترا کی انقلاب آیا۔اگر اشترا کی انقلاب نہ آتا تو چین میں سوشلزم کا انقلاب آیا ہے اس کا بھی امکان پیدا نہ ہوتا۔کیونکہ یہ دونوں بنیادی طور پر ایک دوسرے سے مختلف اور چینی سوشلزم اسلام سے زیادہ قریب ہے۔غرض پہلے سرمایہ داری کا انقلاب پھر کمیونسٹ (اشترا کی ) انقلاب اور پھر چینی سوشلٹ انقلاب نہ