خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 376 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 376

خطبات ناصر جلد چہارم خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۲ء میں رہنے والا شخص اگر وہ زمیندار ہے تو ہزاروں ایکڑ زمین کا مالک اور لارڈ کہلاتا تھا۔مگر اس کا تعلق عوام کے ساتھ نہیں تھا۔ملک کے اندر کہیں کہیں سرمایہ داری کے یہ نقطے تھے جہاں دولت اکٹھی ہو رہی تھی۔مگر جہاں انسانوں کی کثرت تھی ان کو پتہ ہی نہیں تھا کہ امیر لوگ کسی قسم کی زندگی گزار رہے ہیں۔وہ کس کس قسم کے عیش میں پڑے ہوئے ہیں اور اپنی دولت کو کس طرح ضائع کر رہے ہیں۔اپنی دولت کا صحیح استعمال کر کے بنی نوع انسان کی خوشحالی کے سامان پیدا کرنے میں وہ کس قسم کی غفلت برت رہے ہیں۔لیکن جب انسان انسان کے قریب ہوا یعنی اسے سفر کی سہولتیں میسر آگئیں تو دیکھتے دیکھتے ہی انسان کے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ مجھے تو کھانے کو نہیں ملتا اور یہ لارڈ اور امیر آدمی اپنی دولت کو ضائع کرتے ہیں۔لوگوں نے سمجھا کہ ہم بھو کے مرتے ہیں اور یہ عیش کرتے پھرتے ہیں۔چنانچہ اپنے حقوق منوانے کے لئے اقتصادی شعبوں میں ہڑتالیں ہونے لگیں اور اس طرح انسانی عقل نے مسائل پیدا کئے ان کو حل نہیں کیا۔پس پیش آمدہ مسائل کے حل کے لئے یہ ضروری تھا کہ قرآن کریم کی طرف رجوع کیا جاتا اور اس کی ہدایت کے مطابق مسائل حل کئے جاتے۔مگر قرآن کریم کے رموز اور اسرار کے لئے یہ ضروری تھا کہ ایسے لوگ پیدا ہوں جو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں پاک اور مطہر ہوں اور خدا خودان کا معلم بنے اور اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کر کے وہ ان تمام معاشرتی ، اقتصادی اور دوسری بہت سی برائیوں کو دور کریں جو خود انسانی عقل نے پیدا کی تھیں اور جس کا حل انسانی عقل تلاش نہیں کر سکی۔چنانچہ قرآن کریم کی اصطلاح میں ان روحانی علماء کو نجوم یعنی آسمانی ستارے کہا گیا ہے۔ان ستاروں میں ایک خاص ستارہ ہے جسے چاند کہا گیا ہے یا جسے مسیح محمدی کہا گیا ہے۔یا جسے مہدی معہود کہا گیا ہے جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ ایک روحانی آفتاب ہیں ان کے نور کو دوسرے ستاروں کی نسبت بہت زیادہ یعنی پوری طرح جذب کر کے نوع انسانی کے لئے روشنی کے سامان پیدا کئے۔مگر جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو روحانی آفتاب ہیں اور قیامت تک کے لئے دنیا کو روشن کرنے والے ہیں۔آپ کی روشنی نہ کم ہوتی ہے اور نہ کبھی کم ہوسکتی ہے۔لیکن کچھ دور ایسے آتے رہے ہیں جب اس زمانے کی بینائی میں کمزوری آجاتی رہی ہے اب مثلاً ڈاکٹر