خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 374 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 374

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۷۴ خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۲ء دیا گیا تھا اور قرآن کریم کی وہ تفسیر جس کا تعلق اس زمانے کے ساتھ تھا وہ تفسیر اصولی طور پر بتا دی گئی تھی۔تاہم اس کی تفصیل میں جانے کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وقت نہیں تھا۔کیونکہ اگر آپ زیادہ تفصیل میں جاتے تو اس زمانے کے لوگ جن کو ہم صحابہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں۔اُن کے لئے ان باتوں کا سمجھنا مشکل ہو جاتا۔بہر حال قرآن کریم کا یہ دعوی واقعی بڑا عظیم دعویٰ ہے کہ اس میں ہر ضروری بات بیان ہوگئی ہے۔تاہم اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم اس بات کو سمجھیں کہ پہلی صدی کی ضروری باتیں جو انسان کے لئے تھیں وہ اور تھیں اور دوسری صدی کی ضروری باتیں اور تھیں۔اسی طرح آج سے دو سو سال پہلے کی ضروری باتیں اور تھیں۔دوسو سال پہلے ایک عظیم انقلاب بپا ہورہا تھا۔یہ انقلاب سرمایہ داری کا انقلاب تھا۔سرمایہ داری نظام ایک انسانی نظام تھا۔اس میں بڑی خرابیاں پیدا ہو گئی تھیں اور وہ خرابیاں بڑھتی چلی گئیں لیکن اس میں شک نہیں کہ وہ ایک عض انقلاب تھا مثلاً اس سرمایہ داری نظام کے دور میں ہوائی جہاز بھی آگئے تھے۔ریلوں کا استعمال شروع ہو گیا تھا سمندری سفر کی سہولتیں میسر آگئی تھیں۔تار کا استعمال شروع ہو گیا تھا وغیرہ۔پس یہ ایک عظیم انقلاب تھا جو زمین کے مختلف خطوں میں بسنے والے لوگوں کو ایک خاندان بنانے میں مد ثابت ہو رہا تھا بعد میں بھی ممد ثابت ہوا اور آئندہ اور زیادہ ممد ثابت ہوگا۔جب یہ ساری چیزیں اسلامی نظام کے تحت آجائیں گی تو اس سے بہت زیادہ فائدہ اٹھایا جائے گا۔پس قرآن کریم کا یہ دعویٰ کہ ہر صدی کی یا ہر زمانے کی یا ہر ملک کی یا ہر انسان کی ضرورتوں کو سلجھانے کے لئے بنیادی اور اصولی تعلیم قرآن کریم میں دے دی گئی ہے اور کوئی چیز اس سے باہر نہیں رہی۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ۹۹ باتیں بیان کی گئی اور ایک چھوڑ دی گئی نوا کی اگر ضرورت تھی تو نو باتیں بیان کر دی گئی ہیں۔اس کے لئے اللہ تعالی نے ایک نظام قائم کیا ہے اور اس کا قرآن کریم نے ذکر کیا ہے۔فرمایا :۔مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَبِ مِنْ شَيْءٍ یہ سارا نظام اسی دعوی کو ثابت کرنے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔آج سے پانچ سوسال کے