خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 360 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 360

خطبات ناصر جلد چہارم خطبه جمعه ۱۸ اگست ۱۹۷۲ء مٹ جائیں۔سارے اندھیرے جاتے رہیں۔اسلام کا نور ساری دنیا میں پھیل جائے۔لوگ اپنے اپنے کاموں میں مگن ہیں کسی کو اسلام کی اشاعت کا فکر نہیں اور نہ اسلام کا درد ہے۔یہ جماعت احمد یہ ہی ہے جس کے دل میں اسلام کا درد ہے اس لئے ہمارا فکر اور ہمارا تد بر ہمارا پڑھنا اور ہماراسننا، ہمارا سونا اور ہمارا جا گنا اسلام کی ترقی کے لئے وقف ہے۔لیکن دشمن یہ سمجھتا ہے کہ وہ طاقتور ہے۔دشمن یہ سمجھتا ہے کہ وہ طاقتور ہے ملک کے حاکموں کے مقابلے میں۔دشمن یہ سمجھتا ہے کہ وہ طاقتور ہے پاکستان کے مقابلے میں ، اس لئے وہ اسے مٹانا چاہتا ہے۔غرض اس وقت کئی خیالات ہیں جولوگوں میں چکر لگارہے ہیں۔تاہم جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے ہمارے پاس کچھ نہیں۔مجھے تو یہ کہتے ہوئے ذرا بھی شرمندگی نہیں ہوتی کہ میں بڑا غریب ہوں میں سے مراد جماعت احمد یہ ہے کیونکہ جماعت احمد یہ اور اس کا امام ایک ہی وجود کے دو نام ہیں۔بہر حال ہمارے پاس نہ کوئی سیاسی اقتدار ہے اور نہ سیاسی اقتدار کے لئے اپنے اندر کوئی دلچسپی محسوس کرتے ہیں۔نہ ہمارے پاس تلوار ہے اور نہ بندوق ہے اور نہ کوئی اور سامان ہیں۔لیکن ایک ہتھیار اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسا دیا ہے جس کے مقابلے میں کوئی ہتھیار ٹھہر نہیں سکتا اور وہ دعاؤں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے کا ہتھیار ہے۔انسان جب اللہ تعالیٰ کے حضور انتہائی عاجزانہ طور پر جھکتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد کے لئے آتا ہے۔چودہ سوسال کی اسلامی تاریخ میں ہمیں یہی نظر آتا ہے کہ مسلمانوں نے جب کبھی شکست کھائی یا دشمن سے مار کھائی یا دشمن کے ہاتھوں ذلت اٹھائی تو وہ اسلام کو چھوڑ کر اور خدا تعالیٰ سے دور ہو کر اٹھائی۔پس دوستوں سے میں یہ کہتا ہوں کہ یہ ایک زبردست ہتھیار ہے تم اسے استعمال کرو اور بہت دعائیں کرو۔صرف اپنے لئے نہیں صرف اپنوں کے لئے نہیں بلکہ اپنے ملک کے لئے بلکہ اپنے دوستوں کے لئے جن کا جماعت کے ساتھ تعلق نہیں حکومت کے لئے اور پھر اپنے دشمنوں کے لئے بھی دعا کر و حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ وہ شخص ابھی پختہ ایمان والا نہیں ہوا جو اپنے دشمن کے لئے دعا نہیں کرتا۔ویسے ہماری تو کسی کے ساتھ دشمنی نہیں ہے لیکن جس