خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 354 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 354

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۵۴ خطبہ جمعہ ۱۱ راگست ۱۹۷۲ء بہر حال انسان جس چیز کو تیار کرتا ہے اس سے پیار کرتا ہے۔مثلاً زمین کو تیار کرتا ہے تا کہ اس سے گندم حاصل کرے، کپاس حاصل کرے وغیرہ وغیرہ۔وہ کارخانوں کو تیار کرتا ہے کارخانے بھی مادی چیزوں کی تیاری کی جگہ ہیں۔کچھ اینٹیں ہیں، کچھ لوہا ہے، کچھ مشینری ہے۔یہ ساری چیزیں مل کر کا رخانے کی شکل اختیار کرتی ہیں۔تاکہ انسان اس سے مثلاً کپڑا پیدا کرے یا اس سے کھاد پیدا کرے یا فولاد پیدا کرے یا اس میں موٹریں بنائے وغیرہ۔اب تو بے شمار قسم کی چیزیں بننے لگی ہیں۔بے شمار سے مراد یہ ہے کہ ہم ان کو گن نہیں سکتے۔اللہ تعالیٰ کو تو ان سب کا علم ہے۔غرض ایک مادی ذرائع پیداوار اور دوسرے انسانی استعداد یں۔یہ دو بنیادی چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا فرمائی ہیں اور ایک مفسد ان دونوں کی ہلاکت کا موجب بنتا ہے یا ہلاکت کی کوشش میں مشغول نظر آتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم مفسد بھی بنو یعنی جو مادی ذرائع پیداوار ہیں ان کو تم ہلاک کرو۔ان کو تم ضائع کرو۔دوسرے جو تمہیں استعداد یں دی ہیں ان سے تم غفلت بر تو اور ان کی نشو ونما نہ کرو۔ان کا صحیح استعمال نہ کرو اور پھر یہ سمجھو کہ میں تمہارے ان بداعمال اور مفسدانہ اعمال کا صالحانہ اعمال جیسا نتیجہ نکال دوں گا تو یہ خیال غلط ہے۔ایسا نہیں ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ مفسدوں سے پیار نہیں کرتا یعنی جو لوگ حرث اور نسل کو فساد میں مبتلا اور معرض ہلاکت میں ڈالتے ہیں۔اس کے نتیجہ میں انہیں اللہ تعالیٰ کا پیار تو نہیں ملے گا۔اس کے نتیجہ میں انہیں اللہ تعالیٰ کا قہر ملے گا۔اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی جہنم انہیں ملے گی۔اللہ تعالیٰ کا پیار اور اس کی رضا کی جنتیں تو ان کو نہیں ملیں گی۔اسی واسطے میں نے پچھلے خطبہ میں بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ یونس میں فرمایا ہے۔إِنَّ اللهَ لَا يُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِينَ (يونس: ۸۲) مفسد کے عمل کا نتیجہ صلاح نہیں ہو سکتا۔مفسدانہ اعمال کا نتیجہ صالح اعمال جیسا نہیں نکلا کرتا۔اب اس وقت یوں تو ساری دنیا میں فساد کی وبا پھیلی ہوئی ہے۔امریکہ میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی فتنہ وفساد کی آگ مختلف شکلوں میں پھیلی ہوئی ہے لیکن ان ملکوں میں جن میں ظالم اور مفسد ملکوں کی ریشہ دوانیاں بڑی کثرت سے ہورہی ہیں۔ان میں خصوصاً یہ وبا زیادہ