خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 15
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۵ خطبہ جمعہ ۱۴ /جنوری ۱۹۷۲ء پہنچ جائے تو وہ ان ملکوں سے آگے نکل جائے گا۔ہم نے اگر سو میں سے دین نمبر لئے اور انہوں ( یعنی امریکہ، روس، چین وغیرہ) نے سو میں سے پچاس نمبر لئے تو اس لحاظ سے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ہم سے بہت آگے ہیں۔وہ ہم سے پانچ گنا آگے ہیں لیکن اگر ہمارے اندر اللہ تعالیٰ نے دس کی بجائے سونمبر لینے کی صلاحیت رکھی تھی اور ہم یہ سونمبر حاصل کر لیں تو گویا ہم اُن سے دو گنا آگے نکل گئے۔پس انسان کی اصل دولت اس کی صلاحیت ہے یعنی وہ قوتیں اور استعداد میں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہیں۔یہی اصل دولت ہے۔اب ایک قوت ہے جو مٹی سے کھیل رہی ہے اور ہم اس کو زراعت کہتے ہیں۔ایک انسان کی قوت ہے جو سونے سے کھیل رہی ہے ہم اس کو سنار یعنی زیور بنانے والا کہتے ہیں اور وہ اس کے ذریعہ پیسے کما رہا ہوتا ہے۔ایک قوت ہے سرجری یعنی جراحی کی۔مثلاً ایک ڈاکٹر ہے وہ اپنے اوزار پکڑتا ہے اس کے جسم کی بھی اور ذہن کی بھی ایسی نشو ونما ہوتی ہے ( بہت سی قوتیں مل کر اس دُنیا میں کام کرتی ہیں ) کہ جس وقت وہ چاقو چلاتا ہے تو ایک سیدھی لکیر کھینچتا ہے۔ذرا بھی ادھر اُدھر نہیں ہوتا لیکن اس کے مقابلے پر ایک دوسرا ڈاکٹر تھا جس میں پوری طاقت تھی لیکن وہ اپنے علم میں نہیں بڑھا اور اپنی صلاحیت کی صحیح نشوونما نہیں کی وہ آپریشن کرتا ہے گردے کا، تو ساتھ ہی دو تین اور جگہ زخم لگا جاتا ہے اس واسطے کہ اس کی صلاحیت کی پوری نشو ونما نہیں ہو پائی اور اس قسم کے جو کام ہیں اُن میں تو کسی زندہ قوم کو سو فی صد صلاحیت سے کم پر راضی نہیں ہونا چاہیے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوسکتا بعض دفعہ میں سمجھانے کے لئے مذاق میں بات کرتا ہوں تو وہ حیران ہو جاتے ہیں۔مثلاً اگر ہمارا لا ہور کا طبی کالج چالیس فی صد نمبروں پرلڑکوں کو پاس کرتا ہے تو وہاں سے ایک فارغ التحصیل ڈاکٹر اگر پانچ میں سے تین مریضوں کو نا اہلیت کی بنا پر مارتا ہے تو آپ اس پر الزام نہیں لگا سکتے۔وہ آرام سے کہہ دے گا کہ مجھے چالیس فی صد نمبر دے کر پاس کیا گیا تھا۔دیکھو میں اب بھی پاس ہوں۔میرے چالیس فی صد مریض اچھے ہورہے ہیں۔تم نے میری ساٹھ فی صد جو خامی تھی ، اس کو جب نظر انداز کیا تھا تو جو ساٹھ فی صد مریض مر رہے ہیں ، ان کو نظر انداز کرنے کے لئے کیوں تیار نہیں ہوتے۔پس اس