خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 316 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 316

خطبات ناصر جلد چہارم ٣١٦ خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۷۲ء اب ٹھہر گئی ہے یعنی جو شخص رفعتوں کو حاصل کرتا ہے اگر وہ ٹھہر جائے اتو اس کی حرکت نیچے کی طرف گرنی شروع ہو جاتی ہے۔اس کی صلاحیتوں میں کمزوری پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔یہی حال تنزّل پذیر ملکوں کا ہے وہ ملک دُنیوی ترقیات کے اس نقطہ عروج پر آج نظر نہیں آتے جہاں پہلے نظر آیا کرتے تھے۔مثلاً آج کے انگلستان اور ڈیڑھ سو سال پہلے کے انگلستان میں بڑا فرق ہے۔میں جب ۱۹۶۷ ء میں یورپ گیا تو لندن ائیر پورٹ پر اخبار کے ایک نمائندہ نے مجھ سے ایک سوال کر دیا کہ آپ یہاں پہلے طالب علمی کے زمانہ میں بھی رہے ہیں۔اب یہاں پھر آئے ہیں۔فوری طور پر کیا آپ کو کوئی تبدیلی نظر آئی ہے؟ میں نے کہا مجھے انگریز قوم میں تنزل نظر آیا ہے میرے ساتھ مکرم محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کھڑے تھے کہنے لگے آپ تو بڑی دیر کے بعد یہاں آئے ہیں اور آپ کو تنزل نظر آیا ہے۔ہم تو یہیں رہتے ہیں۔ہمیں تو روزانہ تنزل نظر آتا ہے۔غرض وہ ملک جو کبھی بہت ترقی پر تھے اب رو بہ تنزل ہیں۔دوسری طرف جو ترقی کرنے والی اقوام ہیں۔اُن کے اندر ایک حرکت تو ہے لیکن وہ جہاد نہیں کہلا سکتی۔یعنی اُن کی انتہائی حرکت نہیں یا انتہائی کوشش نہیں ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کی وہ نعمتیں جو بہت جلد حاصل کی جاسکتی ہیں ممکن ہے دس ہزار سال کے بعد حاصل کریں۔پھر تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔اس کا تو یہ مطلب ہے کہ اس عرصہ میں سینکڑوں نسلیں گزر جائیں گی اور پھر جا کر یہ مقام حاصل ہوگا۔ہمارا ملک مسلمان ملک بھی کہلاتا ہے اور اسلام نے محنت کرنے کے اصول اور طریق کار کے متعلق جو حسین تعلیم دی ہے اس سے واقفیت بھی نہیں رکھتا۔ترقی کرنے والی اقوام میں سے کوئی تو جوں کی چال چل رہی ہے اور کوئی راکٹ کی چال چل رہی ہے لیکن جو مسلمان ہے اس کی حرکت اللہ کی بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق خدا داد طاقت کے مقابلہ میں آدھی نہیں ہونی چاہیے یا اسی فیصد نہیں ہونی چاہیے یا نوے فیصد نہیں ہونی چاہیے حتی کہ نانوے فیصد بھی نہیں ہونی چاہیے بلکہ سو فیصد ہونی چاہیے۔ورنہ ان کی کوشش جہاد نہیں کہلا سکتی۔یہ بات اچھی طرح یا درکھنی چاہیے کہ جہاد کہتے ہی اس کوشش کو ہیں جس میں انسان اپنی طاقت کو انتہائی طور پر اور پورے اور مکمل رنگ