خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 314 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 314

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۱۴ خطبہ جمعہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۷۲ء پس یہ وہ حکم ہے جو ہمیں دیا گیا ہے، اسے محنت کا فلسفہ کہہ لیں یا محنت کی تعلیم کہ لیس یا محنت کرنے کا حکم کہہ لیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی استعداد کو محدود کر دیا ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بنی نوع انسان کی مجموعی طور پر جو استعداد اور صلاحیت تھی اس کو بھی محدود کر دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی ہر خلق یعنی اشیاء عالم کی پیدائش کا جو عمل ہے اس میں ہمیں ہر جگہ حد بندی کا اصول نظر آتا ہے جس سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ کوئی ہستی محمد دیعنی حد باندھنے والی بھی ہے۔یہ نہیں کہ اتفاقاً بعض جگہ تو حد بندی کی گئی اور بعض جگہوں میں حد بندی کا خیال ہی نہیں رکھا گیا ہو۔ویسے اگر یہ دُنیا اتفاق کے نتیجہ میں معرض وجود میں آتی تو کسی جگہ تو ہمیں الٹ بھی نظر آتا۔یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے لیکن ہر استعداد کی نشوونما اور ہر استعداد کو کمال نشو ونما تک پہنچانے کا ایک فعل اور عمل شروع ہو جاتا ہے۔جس طرح ہر عمل کی ایک انتہا ہے اسی طرح ایک ابتداء بھی ہے اور ان کے درمیان بڑا فاصلہ ہے۔انسانی عمل کی ابتداء پیدائش کے دن سے شروع ہوتی ہے اور جب انسان آخری سانس لیتا ہے اس وقت نشو ونما کا یہ عمل ختم ہوتا ہے۔مثلاً حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے اُسوہ حسنہ ہیں۔آپ کی مثال ذہن میں لائیں تو یہ بات اچھی طرح سمجھ آجاتی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو مقام محبت اللہ تعالیٰ کے نزدیک آپ کے یومِ وصال سے ایک روز پہلے تھا اس سے بڑھ کر ایک مقام محبت تھا یومِ وصال پر غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور برکتیں اپنی شدت اور وسعت کے اعتبار سے کسی گھڑی کم ہوئیں نہ ایک جگہ ٹھہر ہیں۔اگر ہمیں اپنے بارے میں کوئی حد بندی نظر آتی ہے تو یہ ہماری صلاحیتوں کا نقص ہے۔مثلاً جب ہم افق پر نگاہ ڈالتے ہیں تو جہاں ہماری نظر کام کرنا چھوڑ دیتی ہے وہاں ہم کہہ دیتے ہیں کہ اس کے آگے بس کچھ نہیں حالانکہ اس سے آگے بھی بہت کچھ ہے۔چنانچہ ہماری آنکھ ایک دوسرے وجود کی طاقت کی انتہا اس جگہ کو سمجھ لیتی ہے جو ہماری طاقت کی انتہا ہے کیونکہ اسے اس کے باہر کا علم تو حاصل ہی نہیں ہوسکتا۔اس لئے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنا اس وجہ سے مشکل ہے کہ جتنی نعمتوں کے آپ وارث ہوئے تھے اتنی نعمتوں کا بنی نوع انسان میں سے کوئی وارث ہوا نہ ہو سکتا ہے۔