خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 295 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 295

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۹۵ خطبہ جمعہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۷۲ء بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ انسانی فکر وتدبر نے کام تو ضرور کیا۔بعض لوگ بڑے اچھے دل رکھنے والے تھے۔ان کی طبیعت میں انسانیت کی خیر خواہی بھی پائی جاتی تھی۔ہم یہ ساری باتیں تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود اُن کا دُنیوی فکر و تد بر اپنے کمال کو نہیں پہنچا تھا۔انبیاء علیہم السلام کے سلسلہ پر جب ہم غور کرتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں جو چیز نمایاں ہوتی ہے اور جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب میں مختلف مثالیں دے کر واضح کیا ہے وہ یہ ہے کہ پہلی شریعتوں نے انسان کو جو وی ترقی کے سامان دیئے تھے۔گلی ترقی یا کامل ارتقاء کا سامان یعنی وہ علوم جن سے انسان اپنی صلاحیتوں کی نشو و نما کو کمال تک پہنچا سکے وہ علوم صرف اسلام نے ہمیں سکھائے ہیں، پہلوں نے نہیں سکھائے۔چنانچہ اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بائیبل کی یہ مثال دی ہے کہ یہودیوں کی تاریخ کی ابتداء میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ تعلیم دی گئی تھی کہ اگر کوئی شخص تیرے گال پر تھپڑ لگا تا ہے تو اس کی گال پر ضرور تھپڑ لگے معافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور پھر یہودیوں کی تاریخ کے آخری دور میں کہا گیا۔اگر کوئی آدمی تیرے ایک گال پر تھپڑ مارتا ہے تو تو دوسرا گال بھی اُس کے سامنے کر دے۔دراصل وہ بھی ایک جزوی حکم ہے اور یہ بھی ایک جز وی حکم ہے۔اس کے مقابلے میں اسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ اگر کوئی شخص تیرے منہ پر تھپڑ لگاتا ہے تو ایسے موقع پر تیرے ذہن میں دو چیزیں آنی چاہئیں۔ایک یہ کہ اپنی صلاحیت کو دیکھو۔خدا تعالیٰ نے تجھ پر احسان کیا ہے۔تجھے اسلام کی تعلیم دی جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک انتہائی حسین اور ارفع نعمت ہے۔اس عمدہ تعلیم کے ذریعہ تیری بریت کی گئی اور دوسرے یہ کہ تیرے بھائی کا درد تیرے دل میں پیدا کیا گیا۔ان دو پہلوؤں کے لحاظ سے ایک چیز نمایاں ہو کر سامنے آجاتی ہے اور وہ تیرا یہ ردعمل ہے کہ میں اپنے نفس اور اس کے جذبات کو قربان کرتے ہوئے معاف کرتا ہوں۔اس قسم کا رد عمل کہ خدا تعالیٰ کے لئے جذبات کو قربان کر دیا جائے۔اسلامی تعلیم ہی کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔دوسرے یہ کہ اگر بدلہ لینے کی صورت میں گال پر تھپڑ لگانے کی ضرورت ہے تو یہ کام اپنی نفسانی خواہشات یا حیوانی جذبہ کے ماتحت نہیں کرنا۔اسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ اگر کسی سے بدلہ