خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 280 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 280

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۸۰ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۷۲ء میں آبادی نہ ہونے کے برا برتھی۔بہر حال چودہ سو سال میں دُنیا کی آبادی بہت بڑھ گئی ہے۔افریقنوں نے پچاس پچاس بیویاں رکھ لیں۔اسلام لانے سے پہلے بھی اور اب اسلام میں بھی۔وہاں ایسا ہی چلتا ہے کیونکہ ان کی زیادہ تربیت نہیں ہو سکی۔وہاں کی ہماری جماعت کے پریذیڈنٹ صاحب مسلمانوں سے احمدی ہوئے ہیں۔قبولِ احمدیت سے پہلے انہوں نے اتنی بیویاں کیں اور اتنے بچے پیدا کئے کہ انہیں یہ یا دہی نہیں کہ کون میرا بچہ ہے۔ویسے وہ ہیں بڑے امیر آدمی۔ان کے متعلق یہ لطیفہ بیان ہوتا ہے ( اور لوگ ان سے مذاق کرتے ہیں ) کہ ایک نوجوان آجاتا ہے اور کہتا ہے میں تھر ڈائیر میں داخل ہوں اور میں آپ کا بیٹا ہوں۔آپ میر ا خرچ برداشت کریں وہ چپ کر کے جیب سے پیسے نکال کر اسے دے دیتے ہیں۔ان کو یہ بالکل پتہ نہیں ہوتا کہ وہ سچ بول رہا ہے یا جھوٹ بول رہا ہے۔اسلام نے بھی چار شادیوں کی اجازت دی تھی مگر شرائط کے ساتھ اور ویسے دُنیا میں جائز و ناجائز طریقوں سے انسانوں نے بچے پیدا کئے۔چنانچہ آج کل اخباروں میں عموماً آتا رہتا ہے کہ بیسویں صدی کے آخر میں دُنیا کی اتنی آبادی بڑھ جائے گی۔پس پچھلے چودہ سو سال میں دُنیا بہت بڑھ گئی۔دُنیا بہت پھیل گئی غیر آباد علاقے آباد ہو گئے۔نئے سے نئے ملک اُبھرے۔آپس میں ملاپ کی راہیں گھل گئیں۔پھر ایک خاندان بننے کا وقت آ گیا۔اب دُنیا کو ایک خاندان بنانا آپ کا کام ہے تکمیل اشاعت قرآن آپ کا کام ہے۔میرے دل میں یہ شدید خواہش ہے کہ اگلے پانچ سال میں قرآن کریم کی کم از کم دس لاکھ کا پیاں دس لاکھ افراد کے پاس یایوں کہنا چاہیے کہ دس لاکھ گھروں میں پہنچ جانی چاہئیں۔اللہ تعالیٰ نے بڑا فضل کیا۔میں نے یہ کام کروا دیا ہے۔میں خود حیران ہوں میرا زمانہ خلافت ابھی بہت تھوڑا ہے۔پانچ چھ سال کے اس تھوڑے سے عرصہ میں قرآن کریم کی ایک لاکھ کا پیاں چھپ چکی ہیں۔میرا خیال ہے آپ میں سے کسی دوست کے ذہن میں یہ بات نہیں آئی ہوگی کہ کتنا بڑا انقلاب آگیا ہے۔میں نے آپ سے یہ بات کہی تھی لیکن آپ لوگ میرے ساتھ کما حقہ تعاون نہیں کرتے