خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 278 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 278

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۷۸ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۷۲ء چیزوں کے میں نے یہی نتیجہ نکالا کہ ان کو یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ ترجمہ کی طرز میں کیا تبدیلی ہو گئی ہے۔بعض لوگوں کو میں خود بتاتا ہوں کہ دیکھو یہ انقلاب رونما ہو چکا ہے۔چند دن ہوئے ایک بڑے افسر ملنے آئے ہوتے تھے۔میں نے ان کو انگریزی ترجمہ قرآن کریم دکھایا۔تو میں نے جیسا کہ میری عادت ہے اور ہر عقلمند احمدی کی ہونی چاہیے ہم کوئی بات دھڑلے کے ساتھ پورے علم کے بغیر نہیں کر سکتے۔میں نے انہیں بڑے محتاط الفاظ میں بتایا کہ میرے علم میں پہلی دفعہ یہ واقع ہوا ہے کہ قرآن کریم کے ترجمہ کرتے وقت ترجمے کے متن کو Follow(فالو ) کیا ہے۔وہ کہنے لگے کہ آپ کے علم میں ہی نہیں بلکہ حقیقت یہی ہے کہ یہ پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے۔میں نے کہا میرے علم میں نہیں ممکن ہے کہیں سے کوئی ترجمہ نکل آئے اس لئے ہم حتمی طور پر نہیں کہہ سکتے لیکن اگر ہے بھی تو وہ بہت تھوڑا ہوگا۔پس جہاں تک قرآن کریم کی اشاعت کا تعلق ہے ایک انقلاب آ گیا ہے۔گو اس انقلاب کی اس وقت ہمیں ایک موج نظر آتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک انقلاب پیدا ہو رہا ہے دوست دعا کریں اللہ تعالیٰ فضل فرمائے۔ہمارا اپنا پریس جلدی لگ جائے۔چونکہ ملک میں ایک سیاسی ہنگامہ اور انتشار پیدا ہوا اور پھر اس کو درست کرنے کے لئے ایک حکومت قائم ہوئی جو حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس پر کچھ وقت لگے گا ورنہ ہمارے پریس کے لئے باہر سے مشینیں منگوانے کا کیس قریباً تیار تھا۔اس روک کی وجہ سے کچھ دیر ہمیں اور انتظار کرنا پڑے گا لیکن میں آپ کو یہ بتا دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے راستے میں مستقل روکیں پیدا نہیں ہوا کرتیں۔چنانچہ میں پریس کے بارے میں پریشان تھا اور دعائیں کر رہا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ایک اور راستہ بتا دیا۔یہ اللہ تعالیٰ کے کام ہیں وہ خود ہی راہیں کھول دیتا ہے دو، چار مہینے یا سال کی تاخیر ہو جانے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ملک غلام فرید صاحب نے چھوٹے نوٹوں کے ساتھ قرآن کریم کا جو ترجمہ شائع کیا ہے اس کی طباعت پر پاکستان کے ایک پریس نے چارسال لئے ہیں۔میں نے تحریک جدید سے کہا کہ