خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 273
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۷۳ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۷۲ء پیچھے پڑ جائے گا کہ تم کہاں کے بڑے عقلمند بنے پھرتے ہو۔غرض زید یا بکر کی عقلوں کا سوال نہیں۔دُنیا کے چوٹی کے دماغ اور خود کو عقلمند اور صاحب فراست کہنے والے لوگ مسائل میں آکر قریباً ہر مسئلہ میں اختلاف کر گئے ہیں۔بین الاقوامی سطح پر بھی اور اندرون ملک بھی۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے کہ مثلاً اقتصادیات کے معاملہ میں انگلستان گو ایک چھوٹا سا ملک ہے۔یہاں بھی بڑے بڑے ماہر ،عقلمند اور بڑے اچھے لکھنے والے اکانومسٹ پیدا ہوئے مگر آپس میں اختلاف کر گئے۔ایک ایک تھیوری بنا رہا ہے۔دوسرا دوسری تھیوری بنا رہا ہے۔یہ تو اندرونِ ملک حال ہے بین الاقوامی سطح پر امریکہ، روس اور چین کا باہمی فرق تو بڑا نمایاں ہے۔اب مثلاً کمیونزم (اشتراکیت ) اور چینی سوشل ازم کو اگر لیں تو چونکہ عقل ناقص ہے۔اس لئے جس نتیجہ پر روسی کمیونسٹ پہنچا اس نتیجہ پر چینی سوشلسٹ نہیں پہنچا۔چین نے اپنی اور تھیوریز بنالیں اور اس طرح ان کا آپس میں اختلاف پیدا ہو گیا۔گو عام طور پر لوگوں کے سامنے یہ اختلاف نہیں آیا لیکن میں آپ کو علی وجہ البصیرت بتاتا ہوں کہ ان کا آپس میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے روسی اور چینی اختلاف سے پہلے یوگوسلاویہ کے ٹیٹو کے کمیونزم اور روسی کمیونزم میں اختلاف پیدا ہو گیا۔یوگوسلاو یہ والے کہتے ہیں کیا تم ہی بڑے عقلمند ہو؟ ہمیں بھی تو عقل دی گئی ہے۔ہم بھی اختلاف کر سکتے ہیں۔غرض یہ تو صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو عقل دی ہے لیکن ایسی عقل دی ہے جو غیر محدود وسعتوں میں جولانی نہیں کر سکتی کیونکہ عقل محدود ہے۔جس وقت وہ اپنی حدود کو پھلانگتی ہے، وہ نقص کو پیدا کرتی ہے۔وہ بطلان کو پیدا کرتی ہے۔وہ صداقت کو پیدا نہیں کرتی کیونکہ وہ اپنی حدود سے آگے نکل جاتی ہے حالانکہ وہ ایک محدود چیز ہے لیکن جو کلام، جو بیان، جوصداقتیں اور اختلاف کو دور کرنے والے جو اصول علام الغیوب کے کامل علم کے سرچشمے سے نکلتے ہیں وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ عقل اور عقل کے درمیان اختلافات کو دور کرائیں۔