خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 271 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 271

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۷۱ خطبہ جمعہ ۷ جولائی ۱۹۷۲ء حقوق کے متعلق بڑا شور مچا دیا ہے۔امریکہ کے چوٹی کے اکانومسٹ یعنی چوٹی کے ماہرین اقتصادیات یہ سمجھتے ہیں کہ دُنیا میں اُن جیسی عقل کسی اور کو حاصل نہیں ہے۔ایک گروہ تو امریکہ کے ماہرین کا ہے۔دوسرا گروہ روس میں بستا ہے وہ کہتے ہیں کہ اتنی عقل جتنی روسی ماہرین کو حاصل ہے دُنیا کے کسی اور خطے میں تمہیں نظر نہیں آئے گی۔غرض وہ بھی ماہرین اکانومسٹ اور یہ بھی ماہرین اکانومسٹ۔وہ امریکہ میں رہنے والے ہیں اور یہ روس میں بسنے والے اور ہر دو اپنی مادی طاقت کے نتیجہ میں خود کو بڑا عقلمند سمجھتے ہیں۔جو لوگ ان کو جانتے ہیں، اُن سے بھی کہلوا لیتے ہیں کہ جی یہ بڑے عقلمند ہیں ان کی نقل کرنی چاہیے مثلاً پاکستان والے آنکھیں بند کر کے امریکہ کی نقل کرنے لگ جاتے ہیں یا پاکستان والے روس کی نقل کرنے لگ جاتے ہیں یا پاکستان والے چین کی نقل کرنے لگ جاتے ہیں۔اس طرح وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہم گدھے ہیں۔ہمارے اندر عقل نہیں ہے اور وہ (امریکن اور روسی ) عقلمند ہیں اور ان عقلمندوں کا حال یہ ہے کہ امریکہ، روس اور چین کے لوگوں کی عقلوں کو جب اکٹھا کیا جائے تو سوائے اختلاف کے اس کا کوئی نچوڑ نہیں نکلتا یعنی جس طرح ایک طبیب ادویہ بنانے کے لئے بعض چیزوں کا نچوڑ نکالتا ہے اسی طرح اگر ان کی عقلوں کو اکٹھا کر کے ان کا نچوڑ نکالا جائے تو وہ اختلاف ہوگا۔پھر ہر ایک کا اپنے اپنے ملک کے اندر اختلاف ہے۔میں آکسفورڈ میں اقتصادیات بھی پڑھتا رہا ہوں۔وہاں اقتصادیات پر ایک کنیز “ کا نظریۂ اقتصادیات تھا اور اسی طرح کے مختلف سکولز ہیں جو اپنی اپنی تھیوریز بناتے چلے جاتے ہیں اور یہی مختلف تھیوریز ہی دراصل ان کی ناقص عقل کی زبردست دلیل ہے۔ان عقلوں نے ہماری عقل تو اندھی کر دی ہے۔اسی لئے بعض لوگوں نے کہ دیا کہ جی بس عقل کافی ہے یعنی اسلام میں ایسے لوگ بھی پیدا ہو گئے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ اب مسلمان کے لئے الہام کی ضرورت نہیں ، عقل کافی ہے۔مگر کیا وہ عقل کافی ہے جو امریکہ اور روس کو آپس میں لڑا رہی ہے روس اور چین کو آپس میں لڑا رہی ہے۔پس ان کا اختلاف بتا رہا ہے کہ عقل کافی نہیں ہے بلکہ یہ تو خود ناقص ہے اس کے ساتھ