خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 261 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 261

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۶۱ خطبه جمعه ۳۰/ جون ۱۹۷۲ء میں صرف اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کروں۔عربی محاورہ اور اردو ترجمہ کے لحاظ سے عبادت کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں صرف اللہ تعالیٰ کے حضور تذلل اور فروتنی اختیار کروں۔غرض عربی لغت میں عبادت کے معنے ”غَايَةُ التَّذَلُل “ کے ہوتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے انتہائی تذلل اور فروتنی کی راہوں کو اختیار کیا جائے۔مگر یہ تذلل اسی وقت نفس انسانی میں پیدا ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی جلالی صفات اور اس کی عظمت کا عرفان ہو۔اس کے بغیر تذلل اختیار نہیں کیا جا سکتا۔در حقیقت اللہ تعالیٰ کی اس قدر عظمت اور جلال ہے کہ جب لوگ ان صفات کو پہنچانے لگتے ہیں تو اُن کا سر پھر بامر مجبوری ہی اٹھتا ہے ورنہ جھکا ہی رہتا ہے۔ایک حدیث میں آیا ہے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار تھے (اس وقت مجھے یہ یاد نہیں رہا کہ گھوڑے پر سوار تھے یا اونٹنی پر ) اور آپ دعا میں لگے ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کا آپ کی طبیعت پر اتنا اثر تھا کہ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ آپ کا سر جھکنا شروع ہوا یہاں تک کہ کاٹھی کے ساتھ لگ گیا اور اس سے نیچے تو جاہی نہیں سکتا تھا۔پس یہ ہے غایت تذلل یعنی انتہائی فروتنی اور اس کا ظاہری کمال۔آپ کا سر کاٹھی کے ساتھ لگ گیا۔اس سے نیچے جاہی نہیں سکتا تھا۔اور یہ اتنا تذلل اور فروتنی ہے جس سے زیادہ ہو ہی نہیں سکتا۔اس لئے یہ قلبی، روحانی اور ذہنی کیفیت پیدا ہو ہی نہیں سکتی جب تک انسان اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کے جلوے نہ دیکھے اور اللہ تعالیٰ کی عظیم جلالی صفات کی معرفت نہ رکھتا ہو۔اسی لئے فرمایا يَخْشَوْنَ رَبَّهُم جو لوگ اپنے رب کی خشیت رکھتے ہیں یعنی اس کی عظمت کو دیکھ کر اس کے سامنے تذلل اختیار کرتے ہیں ان کو قرآن کریم کی تعلیم اس رنگ میں اور اس طور پر متاثر کرتی ہے کہ ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اگر کسی آدمی کے سامنے یکدم جنگل میں مثلاً شیر آ جائے یا کسی اور چیز سے وہ ڈر جائے ( اور عام زندگی میں بھی کئی دفعہ ہر انسان کو ایسا تجر بہ ضرور ہوتا ہے ) تو ایک سنسنی سی پیدا ہوتی ہے اور انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔جسم میں خوف کی ایک لہر سی دوڑ جاتی ہے۔تَقْشَعِر کے یہی معنے ہیں یعنی خوف کے مارے جسم میں لہر دوڑ نے اور سنسنی