خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 260
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۶۰ خطبه جمعه ۳۰/ جون ۱۹۷۲ء پس ایک تو ربوہ میں رہ کر اس کلاس سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی خاطر اور دوسرے عہدیداران ضلع کو احساس ذمہ داری دلانے کی خاطر میں نے یہ حکم دیا تھا کہ پہلا ہفتہ اضلاع یہ کلاس لیں اور پھر دوسرا، تیسرا اور چوتھا ہفتہ یہ کلاس ربوہ میں منعقد ہو۔ربوہ میں جب یہ کلاس شروع ہوگی تو اس میں ہمارا وہی نوجوان شامل ہو سکے گا جو پہلے ہفتہ کا کورس اپنے ضلع میں مکمل کر چکا ہوگا۔ورنہ اسے وہاں سے واپس کر دیا جائے گا۔اس لئے اضلاع کو چاہیے کہ وہ ایسے بچوں کو ربوہ بھیجنے کی خواہ مخواہ تکلیف نہ کریں۔میں اس کلاس میں شامل ہونے والوں کو خصوصاً اور ہر احمدی مسلمان کو عموماً اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم کی محض تلاوت کافی نہیں ہے۔بلکہ اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ قرآن عظیم کے ساتھ ہمارا تعلق ہو۔پھر اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم قرآن کریم کا اثر قبول کریں۔یہ کوئی جادو یا ٹو نہ نہیں ہے کہ آپ نے اس کی تلاوت کی اور اس کا آپ کو فائدہ پہنچ گیا۔گو قر آن کریم سرا پا برکت ہے۔اس کے پڑھنے سے کچھ نہ کچھ تو برکت مل جائے گی۔اس سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا۔لیکن وہ برکت نہیں ملے گی جس کے لئے قرآن کریم کا نزول ہوا تھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے قرآن کریم کا اثر قبول کرنے کے لئے دو بنیادی باتیں بتائی ہیں۔ایک خشیت اللہ کا ہونا اور دوسرے محبت الہی کا دل میں پایا جانا۔جہاں تک خشیت کا تعلق ہے، عربی زبان میں صرف خوف یا ڈرکا نام خشیت نہیں ہے۔بلکہ اُس خوف کو خشیت کہتے ہیں جو کسی کی عظمت اور جلال کے عرفان کے بعد دل میں پیدا ہوتا ہے یعنی کسی کی عظمت اور جلال کی معرفت کے بعد اس کا خوف کھانا خشیت“ کہلاتا ہے۔پھر اسی طرح محبت سے میری مراد د نیوی محبت نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے جب محبت کا تعلق ہو تو اسے محبت الہی کہتے ہیں اور یہ محبت، اللہ تعالیٰ کی جمالی صفات کے نتیجہ میں اور اس کے احسان کو دیکھ کر دلوں میں پیدا ہوتی ہے۔چنانچہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ