خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 8 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 8

خطبات ناصر جلد چہارم Δ خطبہ جمعہ کے رجنوری ۱۹۷۲ء اپنے لئے تجویز کئے تھے آپ اُن کو پورا نہیں کر سکتے۔وقف جدید کے متعلق منصو بہ بنانے والے دماغ میں جو کام تھا وہ تو یہ نہیں تھا۔وہ تو اس سے کہیں زیادہ کام تھا۔پس وہ پیارا وجود جس کے ساتھ آپ کو پیار اور عشق کا دعوی ہے اُس نے آپ کو جو کام دیا تھا، اُس سے کہیں تھوڑے کام کا آپ نے منصوبہ بنایا اور وہ بھی پورا نہیں کیا۔یہ تو بڑے شرم کی بات ہے۔اس لئے جماعت کو اس طرف توجہ دینی چاہیے۔دوسری طرف میں یہ بھی کہتا ہوں کہ جو ہمارا وقف جدید کا دفتر ہے اس کو اپنا حساب درست کرنا چاہیے۔گذشتہ دو چار دن میں ہی میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ جو رقمیں وصول ہو چکی ہیں اُن کا بھی ٹھیک طرح حساب نہیں رکھا گیا۔(پیسوں کا ضیاع تو نہیں ہوا) لیکن اگر ایک شخص تین مہینے کے بعد اپنا چندہ دے دیتا ہے اور اپنا وعدہ پورا کر دیتا ہے اور آپ چھ مہینے کے بعداُ سے کہیں کہ تم نے کبھی چندہ نہیں دیا تو آپ نے اس کا وقت ضائع کیا۔آپ کو یہ کس نے حق دیا ہے؟ پس میں دفتر سے کہتا ہوں کہ آپ مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کی طرف منسوب ہونے والوں کا وقت ضائع نہ کریں یہ سننے کے بعد اور اس بات کو تقریروں میں دُہرانے کے بعد کہ آپ کے متعلق یہ کہا گیا ہے۔انْتَ الشَّيْخُ الْمَسِيحُ الَّذِي لَا يُضَاعُ وَقْتُهُ | کہ تیرا وقت ضائع نہیں کیا جائے گا۔آپ خود اس مسیح کی طرف منسوب ہونے والوں کا وقت ضائع کر رہے ہیں اور اُن کو پریشانی میں ڈال رہے ہیں اس لئے اپنے گھر کو درست کریں اور اس کی صفائی کریں اور اہلیت کو بڑھا ئیں۔مرکزی دفتر کو کسی ایک آدمی کے لئے بھی پریشانی کا موجب نہیں ہونا چاہیے۔وقف جدید والوں نے رسالے اور کچھ کتب اور پمفلٹ وغیرہ شائع کرنے کی بھی ایک سکیم بنائی ہوئی ہے اور غالب وہ اس سلسلہ میں کچھ کام بھی کرتے ہیں لیکن وہ تسلی بخش نہیں ہے۔دراصل کسی کا کام بھی تسلی بخش نہیں ہے۔اس وقت مجھے سب سے زیادہ پریشانی اس سلسلہ میں یہ ہے کہ ہم کتب وغیرہ شائع تو کر دیتے ہیں مگر ان کی تقسیم کا کوئی معقول اور مناسب اور حسب ضرورت