خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 252 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 252

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۵۲ خطبہ جمعہ ۲۳ جون ۱۹۷۲ء کرنے اور اسلام کو غالب کرنے کے لئے جو ہماری جنگ اور جہاد ہے وہ اور قسم کا ہے اور جو منافق کے ساتھ ہماری جنگ ہے وہ اور قسم کی ہے ویسے اصولاً تو ہم تلوار کے ساتھ جنگ نہیں کرتے ہم نے تو ان کی روح کو اپنے قبضے میں لینا ہے ان کے جسموں کو چیلوں کے آگے ڈالنا ہمارا مقصد نہیں ہے۔ہم نے ان کی روح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تھیلے میں لے لینا ہے۔جس طرح لوگوں نے بعض بزرگوں کے متعلق غلط سلط کہانیاں بنا رکھی ہیں (اس کی تفصیل میں میں تو اس وقت نہیں جا سکتا جس دوست کو کوئی کہانی یاد آ گئی ہو وہ حظ اٹھا لیں ) بہر حال ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم اُن کی روح جیتیں۔ہمارا یہ مقصد نہیں ہے کہ ہم ان کی گردن کاٹیں۔تاہم یہ جو مقابلہ ہے یہ جو جیتنے کا ایک فعل ہے اس کے لئے تگ و دو کرنی پڑتی ہے اس کے لئے کوشش کرنی پڑتی ہے اس کے لئے قربانیاں دینی پڑتی ہیں اس کے لئے انتہائی ایثار کے نمونے خدا کے حضور اور دنیا کے سامنے پیش کرنے پڑتے ہیں۔غرض یہ بڑی سخت جنگ ہے اس کے متعلق قرآن کریم میں دوسری جگہ فرمایا ہے۔وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ (التوبة: ۷۳) جس کے معنے یہ ہیں کہ کفار اور منافقین کے مقابلے میں سخت رویہ اختیار کرو۔یہاں بھی اس پوری آیت کی رو سے یا ایها النبی کہہ کر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کونمونہ بتا یا ہے۔میں اس مضمون کے متعلق ابھی مزید غور کر رہا ہوں۔میرا خیال ہے کہ جہاں بھی یايُّهَا النَّبِيُّ کہہ کر کوئی حکم دیا گیا ہے وہاں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے۔کہ اس میں بڑا سخت حکم تھا۔ایک پابندی تھی اس سے گھبرانا نہیں تمہارے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ موجود ہے اس کی طرف دیکھ لینا۔وہ تمہارا سہارا بن جائے گا۔پس يايها النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنْفِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ (التوبة : ۷۳) میں لفظ غلظ “ کے معنے ایسی سختی کے ہیں کہ جس کے اندر کوئی چیز اثر انداز نہ ہو سکے۔مثلاً اسپینج ہے۔یہ بھی نسبتاً سخت ہے۔پانی کی نسبت زیادہ سخت ہے اس کو نیچے دبانے کے لئے بھی کچھ زور لگانا پڑتا ہے لیکن اس کے اندر پانی کا اثر چلا جاتا ہے۔اس کے اندر خلا ہے جس میں دوسری