خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 238 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 238

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۳۸ خطبہ جمعہ ۱۶ / جون ۱۹۷۲ء پیدا کیا کہ ضعف پیدا کرنے میں ان کا مقابلہ کوئی اور دوائی شاید کم ہی کرتی ہو۔یہ گرمی جو میری بیماری بن چکی ہے۔اس کی تکلیف تو ابھی تک جاری ہے لیکن چونکہ چند دنوں تک ربوہ سے باہر جانے کا ارادہ ہے اس لئے دل نے یہ نہیں چاہا کہ اس جمعہ سے بھی غیر حاضر ہو جاؤں اور اپنے بھائیوں اور دوستوں سے ملاقات نہ کروں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہر آن اور ہر لحظہ اہلِ ربوہ کا حافظ و ناصر ہو اور اس کے فرشتے ہمیشہ اہل ربوہ (مردوزن ) کی مدد کے لئے تیار رہیں۔میری آپ سے یہ بھی درخواست ہے کہ آپ میری غیر حاضری میں بھی دعائیں کرتے رہیں کہ میں بھی خدا تعالیٰ کی حفاظت اور امان میں رہوں اور اس کی مدد اور نصرت میرے بھی شامل حال رہے۔ایک لمبا مضمون ذہن میں آیا تھا جس کی میں آج مختصراً ابتداء کر دینا چاہتا ہوں۔گذشتہ جمعہ جس دوست کو میں نے خطبہ پڑھنے کے لئے کہا تھا انہیں یہ بھی ہدایت دی تھی کہ وہ سات منٹ سے زیادہ خطبہ نہ دیں۔اب یہی پابندی خود اپنے اوپر کس حد تک عاید کرتا ہوں یا کر سکتا ہوں یہ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے لیکن میری کوشش یہی ہوگی کہ بہت ہی مختصر خطبہ دوں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ آیت کے اس مختصر سے فقرے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ دوسرے لوگ جو آپ سے اختلاف رکھتے ہیں ، ان سے تبادلۂ خیالات کرتے ہوئے اُن کے نقطۂ نگاہ اور ان کی ذہنیت کے لحاظ سے جو سب سے اچھا جواب اور اچھی دلیل ہے اس کی رو سے تم ان کو مخاطب کیا کرو اور ان سے تبادلہ خیال کیا کرو۔وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ سے ہمیں تین باتوں کا علم ہوتا ہے۔ایک یہ کہ جہاں تک مذاہب کا سوال ہے اور جہاں تک منکرینِ اسلام کا سوال ہے مخالفین اور منکرین کا صرف ایک گروہ نہیں بلکہ ان کے ایک سے زائد گروہ پائے جاتے ہیں۔کوئی کسی جہت سے اسلام کی مخالفت کرتا ہے کوئی کسی وجہ سے اس کا انکار کرتا ہے گو یا کئی وجوہ سے اسلام کا انکار اور مخالفت ہوتی ہے۔غرض ایک تو یہ بات معلوم ہوئی کہ جہاں تک مخالفین اسلام کا تعلق ہے وہ ہمیں ایک سے زائد خیالات اور ایک سے زائد اختلافات رکھنے والے نظر آئیں گے۔دوسری بات جس کا اس حصہ آیت سے پتہ لگتا ہے وہ یہ ہے کہ ہر قسم کے گروہ کے ساتھ