خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 237 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 237

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۳۷ خطبہ جمعہ ۱۶/جون ۱۹۷۲ء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی تمام بنی نوع انسان کے لئے کامل ، اعلیٰ اور حسین نمونہ ہے خطبه جمعه فرموده ۶ ارجون ۱۹۷۲ء بمقام مسجد اقصی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیات تلاوت فرمائیں:۔وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ - (النحل : ١٢٦ ) وَ لَقَد أَتَيْنَا مُوسى وَ هُرُونَ الْفُرْقَانَ وَ ضِيَاء وَ ذِكْرًا لِلْمُتَّقِينَ - الَّذِينَ يَخْشَونَ رَبِّهُمُ بِالْغَيْبِ وَهُمْ مِنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُونَ۔(الانبياء :۵۰،۴۹) لَقَد كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللهَ كَثِيرًا - (الاحزاب : ۲۲) اور ازاں بعد فرمایا:۔پچھلے دنوں گرمی کی وجہ سے مجھے کافی تکلیف رہی ہے۔شروع میں تو دوران سر کی بہت تکلیف رہی چنانچہ چکروں کے احساس کا یہ عالم تھا کہ بستر پر اُٹھ کر بیٹھتا تھا تو ساری دنیا گھوم جاتی تھی۔اسی طرح جب لیٹتا تھا تو زمین و آسمان چکر کھانے لگتے تھے۔چکروں کی تکلیف سے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے کافی آرام آ گیا ہے لیکن کچھ تو بیماری کی وجہ سے ضعف پیدا ہو گیا اور کچھ دوائیں جو چکر دور کرنے کے لئے دی گئی تھی انہوں نے اتنا ضعف