خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 215
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۱۵ خطبه جمعه ۱۲ رمئی ۱۹۷۲ء احمدی جماعتوں نے سخت نا موافق ہنگامی حالات کے با وجود مالی قربانی کا نہایت شاندار نمونہ پیش کیا خطبه جمعه فرموده ۱۲ رمئی ۱۹۷۲ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے یہ آیات تلاوت فرمائیں :۔وَ مِنَ الْأَعْرَابِ مَنْ يَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ مَغْرَمَا وَ يَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَابِرَ عَلَيْهِمْ ط b دَابِرَةُ السَّوءِ وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ - وَ مِنَ الْأَعْرَابِ مَنْ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ود دوو وَيَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ قُرُبَتِ عِنْدَ اللَّهِ وَصَلَوتِ الرَّسُولِ ، أَلاَ إِنَّهَا قُرُبَةٌ لَهُم - اللهُ فِى رَحْمَتِهِ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ - (التوبة : ٩٩،٩٨) اور پھر فرمایا:۔ہم نے ۳۰ اپریل کو پچھلے مالی سال کو ختم کیا ہے اور یکم مئی سے جماعتی چندوں کے لحاظ۔سے ہم نئے مالی سال میں داخل ہو گئے ہیں۔یہ گزرنے والا سال ہنگامی نوعیت کا سال تھا۔ملک میں سٹرائیکس ہو رہی تھیں، ہنگامے ہور ہے تھے۔کارخانے اپنے معمول کے مطابق چل نہیں رہے تھے۔جو تجارتیں تھیں وہ بھی کچھ غیر یقینی حالات میں سے گذر رہی تھیں۔خریدار چیزوں کو خریدتے ہوئے گھبراتے تھے اور جو تھوک فروش تھے وہ بیچتے ہوئے گھبراتے تھے۔کچھ عجیب سے حالات تھے جن میں سے ہمارا ملک گذرر ہا تھا۔