خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 205 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 205

خطبات ناصر جلد چہارم فرما یا:۔۲۰۵ خطبه جمعه ۵ مئی ۱۹۷۲ء وَ انْذِرُ بِهِ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْ يُحْشَرُوا إِلى رَبِّهِمْ لَيْسَ لَهُمْ مِّن دُونِهِ وَلِيُّ وَلَا شَفيع - (الانعام : ۵۲) پھر فرمایا:۔وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدُوةِ وَالْعَشِي يُرِيدُونَ وَجهَه۔اور پھر فرمایا:۔(الانعام : ۵۳) وَ إِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِأَيْتِنَا فَقُلْ سَلامُ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبِّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ - (الانعام : ۵۵) جیسا کہ میں بتا چکا ہوں کہ رسوله کی حیثیت میں یہ اعلان کیا گیا تھا اِنْ اَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى ائی اس کی آگے تفصیل بیان فرمائی جو ان تین باتوں کے ساتھ تعلق رکھنے والی ہے جن کا انکار کیا گیا تھا یعنی پہلے انکار کیا گیا تھا کہ میرے پاس خزائن ہیں کیونکہ میں اللہ تعالیٰ کا ایک بندہ ہوں اور اپنے اس مقام کے لحاظ سے میں کچھ بھی نہیں ہوں۔پس عَبدہ کی حیثیت سے اس بات کا انکار کیا گیا تھا کہ میرے پاس خزانے ہیں لیکن رسولہ کے مقام سے یہ اعلان کیا گیا کہ میں محرومی کی راہوں کو بند کرنے والا اور حصولِ رحمت کی راہوں کو کھولنے اور اُن کو کشادہ کرنے والا ہوں۔دوسرے فرمایا تھا کہ اے رسول! یہ اعلان کرو وَ لَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ میں غیب نہیں جانتا یہ آپ کی عبودیت کا ملہ کا مقام ہے۔آپ کی اس حیثیت سے یہ اعلان کروایا گیا کہ میں غیب نہیں جانتا اور یہ صرف فلسفیانہ باتیں نہیں۔آپ اپنے ماحول میں دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ کئی لوگ غیب کے علم کے جاننے کا دعوی کر دیتے ہیں۔ہماری جماعت میں بھی کئی ناسمجھ لوگ یہ دعویٰ کر دیتے ہیں کہ شام کے وقت ہم سے دعا کے لئے کہو اور عشاء کے وقت ہم سے جواب لے جاؤ۔جس کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ان کا نوکر بن کر ہر وقت اُن کے دروازے پر بیٹھا رہتا ہے۔العیاذ باللہ ! العیاذ باللہ ! لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان دیکھیں۔آپ عَبدہ یعنی