خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 204
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۰۴ خطبه جمعه ۵رمئی ۱۹۷۲ء والے دینی اور دنیوی خزائن مشروط طور پر مقدر کر رکھے ہیں۔اگر تم قرآنی تعلیم کی اتباع کرو گے اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن راہوں پر قدم رکھے، تم بھی ان راہوں پر قدم رکھو گے تو تم بھی ان خزانوں تک پہنچ جاؤ گے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس تو خزانے نہیں لیکن میں اللہ تعالیٰ کے خزانوں کی طرف راہنمائی کر سکتا ہوں۔اسی لئے میں دنیا میں رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔بلاغ میرا کام ہے۔میں تمہیں اس بات سے ڈراتا ہوں کہ اگر تمہارے اعمال گندے اور قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے جو خزانے پیدا کئے ہیں اور جو نہ ختم ہونے والے خزانے ہیں تم اُن سے محروم ہو جاؤ گے اور میں تمہیں اس بات کی بشارت بھی دیتا ہوں کہ اگر تم قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرو گے اور میرے اسوہ کی پیروی کرو گے تو پھر خدا تعالیٰ کے نہ ختم ہونے والے خزائن سے تم حصہ پاؤ گے مگر اپنی اپنی استعداد کے مطابق۔میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزائن نہیں ( میں اگلی آیت کو جوڑ کر اس کا اکٹھا خلاصہ بیان کر دیتا ہوں ) میرے پاس وہ انذار ہے کہ جس پر اگر تم کان دھر و تو محرومی سے بچ سکتے ہو۔میرے پاس وہ بشارت ہے کہ جس کے مطابق اگر تم عمل کرو تو تم اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنی طاقت اور استعداد کے مطابق خزائن اللہ کے مالک بن سکتے ہو۔غرض لا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَابِنُ اللہ کی رو سے اور عبد کامل کی حیثیت میں فرمایا۔میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں لیکن چونکہ میں بشیر اور نذیر ہوں (اگلی آیت کی رو سے ) اس لئے اگر تم میرے مقام (اور آپ کا مقام تمام انبیاء میں سب سے ارفع ہے ) کو پہچانو گے اور میرے اسوہ کی پیروی کرو گے تو اللہ تعالیٰ کے خزانے تمہیں مل جائیں گے اگر چہ وہ خزانے میں محض اپنی طاقت سے تمہیں دے نہیں سکتا۔پس انکار کیا خزائن اللہ کے ہونے سے اور اقرار کیا اس بات کا کہ محرومی کے راستوں کو میں بند کرتا اور حصول رحمت باری کی راہوں کو میں کشادہ کرتا ہوں۔چنانچہ ان اگلی آیتوں میں یہی مضمون بیان ہوا ہے۔