خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 198 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 198

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۹۸ خطبه جمعه ۵رمئی ۱۹۷۲ء سامنے رہے اور ہم مقدور بھر یہ کوشش کرتے رہیں کہ اس کے مطابق اپنی زندگیاں ڈھالیں اور وہی رنگ اپنے نفسوں پر چڑھانے کی کوشش کریں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات وصفات میں ہمیں نظر آتا ہے۔یہ اعلان کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے عبد اور رسول ہیں ان دو پہلوؤں پر قرآن کریم نے متعدد جگہ روشنی ڈالی ہے اور مختلف زاویوں سے ان ہر دو پہلوؤں کو کئی جگہ اکٹھا اور بعض جگہ علیحدہ بھی واضح طور پر بیان کیا ہے۔میں نے ابھی جو آیت تلاوت کی ہے اس میں عبدہ کی جو شان ہے ، عبد کامل کا جو مقام ہے، اس کے تین پہلو بیان کئے گئے ہیں اور اس طرح رسُوله کی جو عظمت ہے اس پر بنیادی طور پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ حکم دیتا ہے کہ تم لوگوں میں یہ اعلان کر دو اور کرتے رہو اور پھر ہمیں چونکہ تلاوت قرآن کریم کا حکم دیا ہے اور علم قرآن سکھانے کی ہدایت کی اور یہ تعلیم دی ہے کہ ہر زمانے اور ہر ملک میں امت محمدیہ کے افراد بھی یہ اعلان کرتے رہیں جو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ سے کروایا گیا ہے کہ میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں۔میں تمہیں یہ بھی نہیں کہتا کہ میں علم غیب رکھتا ہوں۔پھر میں تمہیں یہ بھی نہیں کہتا کہ میں کوئی فرشتہ ہوں۔میں تو تمہیں یہ کہتا ہوں إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَی یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر جو وحی نازل کی گئی ہے اس کا میں کامل متبع اور اولُ الْمُسْلِمِینَ ہوں۔عبد کے معنے عربی لغت میں عاجزی اور تذلل کو اختیار کرنے اور اطاعت اور فرمانبرداری بجالانے والے کے ہیں۔ایک اور معنے لغت میں یہ بھی کئے گئے ہیں کہ کامل اتباع اور فرمانبرداری اور کامل عاجزی اور تذلل اس وجود کے سامنے ، اس ہستی کے حضور ہو سکتا ہے جو اپنے وجود میں ہر قسم کا کمال رکھتی ہو۔اس لئے کامل عجز اور کامل اطاعت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو زیب نہیں دیتی۔اُسی کے سامنے عاجزی اور انکسار کے ساتھ جھکنا چاہیے اور اسی کی کامل اطاعت کرنی چاہیے۔پس اسی معنی میں عبدہ کہا گیا ہے۔