خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 197
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۹۷ خطبه جمعه ۵رمئی ۱۹۷۲ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عبد ہونے کے لحاظ سے بھی درجہ کمال کو پہنچے ہوئے تھے اور رسول ہونے کے لحاظ سے بھی خطبه جمعه فرموده ۵ رمئی ۱۹۷۲ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے نَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوله پڑھا اور پھر اس آیہ کریمہ کی تلاوت فرمائی:۔قُلْ لا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَايِنُ اللهِ وَلَا اَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكَ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْلَى وَالْبَصِيرُ ۖ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ (الانعام : ۵۱) اس کے بعد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت کو جس رنگ میں ہمارے سامنے رکھا ہے اور آپ کی جو حسین تصویر قرآن کریم میں کھینچی گئی ہے وہ عبد اور رسول کا ایک حسین امتزاج ہے۔ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ ہمیشہ اس بات کی شہادت دیتے رہو کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ عليه وآله وسلم عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ہیں یعنی آپ اللہ تعالیٰ کے ایک کامل عبد اور اس کے ایک عظیم رسول ہیں۔تاکہ ہم پر آپ کے اسوہ حسنہ کی اتباع کی جو ذمہ داری ڈالی گئی ہے وہ ہمیشہ ہمارے