خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 1
خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ کے جنوری ۱۹۷۲ء فرمائی:۔وقف جدید کے قیام کی غرض بنی نوع انسان کی خدمت میں وسعت ہے خطبہ جمعہ فرموده ۷ /جنوری ۱۹۷۲ ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ کی تلاوت وَمَا لَنَا الَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللهِ وَقَدْ هَدْنَا سُبُلَنَا وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا أَذَيتُمُونَا وَعَلَى اللهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكَّلُونَ - (ابراهيم : ١٣ ) اور پھر فرمایا:۔اس آیہ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے تین اصولی باتیں بیان فرمائی ہیں پہلی بات یہ کہ عقلاً صرف ایسی ہستی پر تو گل کیا جا سکتا ہے (کہ اس کے بغیر کوئی سہارا نہیں اور اس کی مدد سے کامیابی اور فلاح حاصل ہوگی اور عمل کے نتائج اچھے نکلیں گے ) جو ہمیں عمل کی راہیں بھی بتائے یعنی وہ شروع سے ہماری انگلی پکڑے۔فرمایا وَ مَا لَنَا اَلا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللهِ وَقَدْ هَدْنَا سُبُلَنَا اللہ تعالیٰ جس نے ہماری انگلی پکڑی اور ہمیں ہدایت کی راہ یعنی صراط مستقیم پر چلایا اُس پر ہم کیسے تو گل نہ کریں۔دوسری بات اس آیت میں یہ بتائی کہ مخالف اور دشمن کی ایذارسانی پر صبر اسی صورت میں کیا جا سکتا ہے کہ جب انسان نے کسی قادر ہستی کی انگلی پکڑی ہوئی ہو۔اگر کوئی ایسا قابلِ اعتماد